ہم یہاں ایک دوسرے کی وجہ سے ہیں۔
ایک شام مُلا نصرالدین سنسان سڑک پر تنہا پیدل چل رہے تھے۔ چلتے چلتے اچانک مُلا نے دیکھا، کچھ سوار ان کی طرف آ رہے ہیں۔ مُلا کے جسم میں خوف کی سنسنی خیز لہر دوڑی اور انہیں فورا خیال آیا، وہ لوگ انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کر لیں گے یا پھر غلام بنا کر بیچ دیں گے۔ انہوں نے ممکنہ خدشات سے بچنے کے لیے دوڑ لگا دی۔ سامنے قبرستان کی دیوار پھلانگی اور ایک کھلی قبر میں جا کر لیٹ گئے۔
ان سواروں نے یہ سارا منظر دیکھ لیا تھا۔ وہ مُلا کے اس طرزِ عمل پر بہت حیران ہوئے اور ان کے اس ردعمل کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ان کے پیچھے آ گئے۔ قبر میں لیٹے ہوئے مُلا کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
نیک صفت مسافروں نے ان سے سوال کیا،
’’آپ بھاگتے ہوئے اچانک اس قبر میں کیوں لیٹ گئے۔ سب خیریت ہے؟ کیا ہم آپ کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟
مُلا نے اپنی گھبراہٹ پر قدرے قابو پاتے ہوئے جواب دیا،
’’ ہر سوال کا جواب سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔ تمہاری جانکاری کے لیے بس اتنی بات کہوں گا، میں یہاں آپ لوگوں کی وجہ سے ہوں اور آپ لوگ یہاں میری وجہ سے ہیں۔
کبھی کبھی چند افراد کہیں پر اگر مختصر یا طویل وقفے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ وہ اپنے اپنے مفادات، توقعات، خدشات یا محض اتفاقات کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
مگر اکثر ہم دوسروں کو جانے بغیر ان کے بارے میں بداعتمادی قائم کر کے خود کو اپنی ہی زندہ قبر میں دھکیل دیتے ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ ہماری مدد کے لیے جب ادھر بھی آ پہنچتے ہیں تو فورا شرمندگی کا یہ احساس غالب آ جاتا ہے، وہ تو ہماری اوورتھنکنگ کے بالکل برعکس نکلے۔
یہ مُلا کی خوش نصیبی تھی، انہیں حقیقت کا ادراک اصلی قبر میں پہنچنے سے پہلے ہو گیا لیکن سماج میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کے متعلق بے بنیاد خوف اور بدگمانیوں کے بوجھ تلے آ کر خود کو تنہائی کی قبر میں دفن کر لیتے ہیں اور پھر اپنی بدگمانیوں کا کفن اوڑھے واقعتا قبر میں جا پہنچتے ہیں۔
یہ المیہ دوسروں کے بارے میں ہماری بے بنیاد اوورتھنکنگ کی بنا پر جنم لیتا ہے اور اس کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔
دراصل، مِس کمیونیکیشن اور ڈِس کمیونیکیشن کی وجہ سے غلط فہمیاں بڑھتی جاتی ہیں۔
ڈِس کمیونیکیشن کی بڑی نشانی جون ایلیا نے بیان کر دی؛
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
اور چراغ حسن حسرت کے نزدیک مِس کمیونیکیشن اس لیے پھیلتی ہے کہ؛
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
سچ یہ ہے، ہم سب مُلا کی طرح ایک دوسرے کے سبب ہی ایک جگہ پر اکٹھے ہیں۔ زندگی کی بنت ہی باہمی رشتوں اور مشترکہ وجود پرقائم ہے۔
اصل سوال یہ ہے؛
کیا ہم کسی کے بارے میں بلا وجہ بدگمانی کی وجہ سے خود کو ناامیدی کی قبر میں تو نہیں دھکیل بیٹھے؟
یا کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی اور ہم سے بدگمان ہو کر اپنی تنہائی کی قبر میں جا سویا ہے؟
دونوں صورتوں میں نجات کا یہی راستہ ہے؛
ہم ایک دوسرے کو سنیں، سمجھیں اور صحت مند مکالمے کی روایت قائم کریں۔
یوں، ہم اپنے اپنے خود ساختہ جہنم سے نکل کر زمین کے اس ٹکڑے کو جنت بنا سکتے ہیں۔
مان لیا؛
’بین النجوم‘ فاصلے انسان بڑی تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے ۔
مگر؛
اس ترقی میں بھی خسارہ ہی خسارہ ہے، اگر ہم نے ’بین القلوب‘ تیزی سے بڑھتے ہوئے فاصلوں کی فکر نہ کی۔
🌹 Sharing is Caring 🌹