جیسے ہو، ویسے ہی دکھائی دو۔


فریدالدین عطار کی روایت کردہ ایک حکایت ہے؛
ایک روز ایک شخص جو صوفیوں کے لباس میں ملبوس تھا، اس نے راستے میں بیٹھے ایک کتے کو معمولی اور نجس جانور سمجھ کر اسے اپنے عصا سے مارا۔
کتا چیخا، تڑپا اور اپنی فریاد لے کر سیدھا حضرت ابو سعید کے در پر جا پہنچا۔ اپنا زخم دکھا کر انصاف طلب کیا۔
حضرت نے صوفی کو بلا کر استفسار کیا، اس نے کتے پر اس قدر ظلم کیوں کیا؟
صوفی نے اپنی صفائی پیش کی، اس نے بلا وجہ نہیں مارا، کتے نے اس کے کپڑے ناپاک کر دیئے تھے۔

کتے نے پھر سے فریاد کی، اے دانا بزرگ، جب میں نے اس شخص کو صوفیانہ لباس میں دیکھا تو سمجھا کہ یہ مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اگر یہ عام لباس میں ہوتا تو میں اس سے فاصلہ رکھتا۔ میری اصل غلطی یہ ہے، میں نے اس کے ظاہری لباس کی طرح اس کے باطن کو بھی بے داغ خیال کیا۔
اگر آپ واقعی میں انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اس سے اہلِ صفا کا لباس چھین لیجئے کیونکہ یہ لباس اس کے کردار کے لائق نہیں۔



جس معاشرے میں نمود و نمائش ہی عزت و تکریم کی نشانی بن جائے، وہاں زوال آہستہ آہستہ قابض ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے کو آئینہ دکھانے کے لیے شیخ سعدی کو بھی اپنے لباس پر سالن کا ڈونگا انڈیلنا پڑتا ہے۔ ظاہری شان و شوکت کے ان بیش قیمت لبادوں سے تقوی کا لباس کہیں زیادہ معتبر ہے کیونکہ اس میں،
’پیوند تو ہوسکتے ہیں دھبے نہیں ہوتے‘۔

ظاہر اور باطن میں تضاد ہو تو انسان کی شخصیت مکر و فریب کا ملغوبہ بن جاتی ہے۔ وہ سماج میں مرکز نگاہ بننے کے لیے اپنے میلے باطن کو صاف تو نہیں کرتا مگر اپنے ظاہر کو دوسروں کے سامنے پاک صاف بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے، انسان اچھا نظر آنے کے لیے جتنی زیادہ تگ و دو کرتا ہے ، اس سے کہیں کم محنت سے وہ اچھا بن سکتا ہے۔ یہ ایسی دوڑ ہے جس میں ہم خود سے دور بھاگ کر دوسروں کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔
اب یہ کہاں کی حکمت ہے، انسان اپنا ہاتھ چھڑا کر خود فریبی کی اس دوڑ میں خود سے ہی دور نکل جائے۔
مگر پھر بھی انسان باز نہیں آتا اور آخر کار اس کا اوریجنل ورژن دوسروں کی نگاہوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل رہتا ہے اور وہ خود بھی اپنی اصل کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔

مولانا روم نے بھی اسی لیے یہ نصیحت کی تھی، ویسے ہی نظر آو جیسے تم ہو یا پھر جیسا نظر آتے ہو ویسا بن جاو۔

مکر و فریب کے بدبودار فیشن میں مبتلا معاشرے میں ایسے افراد ہی اپنے باطن کی خوشبو سے اس تعفن زدہ معاشرے کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، جن کا قصیدہ محشر بدایونی نے یوں لکھا تھا۔

کچھ ایسے بھی ہیں تہی دست و بے نوا جن سے
ملائیں ہاتھ تو خوشبو نہ ہاتھ کی جائے


تو آئیں، اپنا اپنا محاسبہ خود کرتے رہیں اور خود سے یہ سوال کرنے کی جرات پیدا کریں۔

اب یہ بتا کہ روح کے شعلے کا کیا ہے رنگ
مر مر کا یہ لباس تو سندر لگا مجھے

(شاعر: شکیب جلالی)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top