میری زندگی کا ایک ٹکڑا

ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والی پہلی نابینا اور بہری خاتون، اور درجن بھر سے زائد کتب کی مصنفہ ہیلن کیلر کہتی ہے؛
’’ اندھے ہونے سے بھی بدتر یہ ہے کہ بصارت ہو مگر بصیرت نہ ہو۔‘‘

اس نے اپنے فکر و عمل سے اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ انسان کا حوصلہ بلند ہو تو وہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پر قابو پا سکتا ہے۔
اس کی زندگی میں مثبت انقلاب لانے والی ٹیچر مس سولیون ہیلن نے ہیلن کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا؛
’’ ہیلن کو سکھانا میرا کام تھا لیکن الٹا ہیلن نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ وہ ایک غیرمعمولی روح ہے، جس نے مجھے صبر ، محبت اور یقین کی حقیقی طاقت سے روشناس کرایا۔‘‘

انتہا درجے کی مایوسیوں کا سامنا کرنے کے باوجود لوگوں میں امید بانٹنے والی زندہ دِل ہیلن کا خیال تھا، جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے، لیکن ہم اکثر بند دروازے پر اتنی دیر تک افسوس کرتے رہتے ہیں کہ کھلے دروازے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا۔‘‘

ذیل میں اس کی تحریر کا ایک ٹکڑا پیش خدمت ہے۔




میری زندگی کا ایک ٹکڑا


1887ء کے موسم گرما کے واقعات، اب بھی مجھے یاد ہیں جو میری رُوح کی اچانک بیداری کا باعث بنے۔ میں اور تو کچھ نہ کر پاتی، بس ہاتھوں سے ہر شے کو چھوتی اور اس لَمس سے اُن کے نام یاد کرتی۔ جتنا زیادہ میں چیزوں کو چھُو کر اُن کے نام اور کام کے بارے میں جانتی، میرے اندر اتنا زیادہ باقی دنیا سے آشنائی کے لیے مسرت اور اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا۔
جب گل دائودی اور گُل اشرفی کے بونے کا وقت آیا، مِس سَولِیوَن(Miss Sullivan) میرا ہاتھ پکڑ کر کھیتوں کی جانب لے گئیں۔ جہاں دریائے ٹَینے سِی (Tennesse) کے کناروں پر کسان بیج بونے کی تیاری کر رہے تھے اور وہاں نرم گرم گھاس پر بیٹھے مجھے فطرت کی مہربانی کا پہلا سبق مِلا۔ میں نے جانا، کِس طرح دھوپ اور بارش کے سنگم سے زمین پر ایسا ایسا درخت پھَلتا پھولتا ہے جسے دیکھنے سے مسرت مِلتی ہے اور جو ہمیں خوراک بھی دیتا ہے۔ کیسے پرندے اپنے گھونسلے بنا کر رہتے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرکے نشوو نما پاتے ہیں۔ کِس طرح گلہری، ہرن، شیراور باقی مخلوق اپنی خوراک اور پناہ گاہ حاصل کرتی ہے۔ ان چیزوں کے متعلق میرے عِلم میں جس قدر اضافہ ہوتا گیا، میرے لیے دنیا کی لذت کا احساس اسی قدر بڑھتا چلا گیا۔ بہت عرصہ قبل، میں نے ریاضی کے سوال حل کرنا اور زمین کی ساخت کو بیان کرنا سیکھ لیا تھا۔

مِس سَولِیوَن نے مجھے خوشبودار جنگلات، گھاس کی ہر پتی اور اپنی ننھی بہن کے ہاتھ کے پیچ وخم میں پوشیدہ خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کا فن سکھا دیا تھا۔ انہوں نے میرے ابتدائی خیالات کو فطرت سے مربوط کر دیا تھا اور مجھے یہ احساس دلایا کہ ” پرندے، پھُول اور میں، آپس میں گہرے دوست ہیں۔”

مگر پھر مجھے ایک تجربے سے یہ معلوم ہُوا کہ فطرت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی ۔ ایک روز میری ٹیچر اور میں طویل سیر کے بعد واپس آ رہے تھے۔ صبح موسم سہانا تھا مگر جب ہم گھر واپس آ رہے تھے تو گرمی اور گھٹن بڑھ گئی تھیں۔ دو یا تین بار، ہم راستے میں اُگے کسی درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے بھی رُکے۔ ہمارا آخری قیام، گھر سے تھوڑے فاصلے پر اُگے ایک خُود رو چیری کے درخت کے نیچے تھا۔ درخت کا سایہ راحت بخش تھا، اور درخت پر چڑھنا اتنا آسان تھا کہ اپنی ٹیچر کی مدد سے میں ہاتھ پائوں ہلاتی اس کی شاخوں سے بَنی نشست میں بیٹھ گئی۔ درخت کے نیچے ایسی ٹھنڈک تھی کہ مِس سَولِیوَن نے تجویز دی؛ ہم دوپہر کا کھانا ادھر ہی کھا لیں۔ میں نے وعدہ کیا، آرام سے ادھر ہی بیٹھی رہوں گی، جب کہ وہ دوپہر کا کھانا لینے گھر چلی گئیں۔

اچانک درخت کے ارد گرد موسم میں تبدیلی آ گئی۔ ہوا میں دُھوپ کی حدت ختم ہو گئی۔ میں جان گئی، آسمان تاریک ہو گیا ہے، کیونکہ وہ تمام حدّت، جس کا معنی، میرے لیے روشنی تھا، آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی گئی۔ مٹی سے عجیب و غریب بُو محسوس ہونے لگی۔ مجھے اس کا عِلم تھا، طوفانِ بادو باراں سے قبل ہمیشہ ایسے بو آتی تھی اور پھِر بے نام سے خوف نے میرے دِل کو جکڑ لیا۔ مجھے اس مخلص زمین اور اپنے دوستوں سے جُدا ہو کر یکسر تنہائی کا احساس ہُوا۔ کسی زبردست نامانوس اندیشے نے مجھے گھیر لیا۔ میں بُت بنی ٹیچر کے انتظار میں بیٹھی تھی، ایک لرزہ خیز احساس میرے اندر رینگتا چلا گیا۔ مجھے اپنی ٹیچر کے لوٹ آنے کی خواہش ہوئی مگر اس سے بڑھ کر یہ کہ میں اس درخت سے نیچے اترنا چاہتی تھی۔

ایک لمحہ منحوس سی خاموشی رہی اور پھر ان گنت پتوں کی سرسراہٹ کا شورتھا۔ سارا درخت جھولنے لگا اور تندو تیز ہوا کا ایسا زور آور حملہ ہُوا کہ اگر میں نے پُوری قوت سے اس شاخ کو تھاما نہ ہوتا تو میں گِر چکی ہوتی۔ درخت جھولتا اور بَل کھاتا گیا۔ چھوٹی ٹہنیاں ٹوٹ کر میرے ارد گرد بکھرتی گئیں۔ میرے اندر درخت سے کُود جانے کی بے اختیار تحریک اُٹھی مگر خوف نے مجھے ادھر ہی جمائے رکھا۔ میں درخت کی اُس شاخ پر دبکی بیٹھی رہی۔ ننھی شاخیں مجھ پر برستی رہیں۔ کبھی کبھار، کرخت آواز سنائی دیتی، جیسے کوئی بھاری چیز آہستہ آہستہ اُسی شاخ پر گِر رہی ہے جس پر میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ابھی میں اسی سوچ میں تھی کہ درخت اور میں اکٹھے ہی گریں گے؛ میری ٹیچر نے میرا ہاتھ تھام لیا اور نیچے اُترنے میں میری مدد کی۔ میں اپنے پاوں کے نیچے زمین کو ایک بار پھر محسوس کر کے خوشی سے مچلتے ہوئے اُن کے ساتھ چمِٹ گئی۔ تب مجھے ایک نیا سبق مِلا،
فطرت اپنی مخلوق کو مشکلات سے نبرد آزما بھی کرتی ہے” اور اس کی بظاہر معصوم شکل کے اندر ناقابلِ اعتبار شکنجے بھی پوشیدہ ہیں۔”

اس تجربے کے بعد، کافی عرصہ تک، میں پھر سے کسی درخت پر نہیں چڑھی بلکہ اس خیال سے ہی میرے اندر وحشت طاری ہو جاتی۔ بالآخر پورے جوبن میں کھِلے ہوئے مموسا (Mimosa) درخت کی دلفریب جاذبیت نے میرے اندر کے خوف کو مغلوب کر دیا۔ موسم بہار کی ایک سہانی صبح، جب میں سائے خانے میں اکیلی، محوِ مطالعہ تھی، مجھے ہوا میں حیران کُن بھینی بھینی خوشبو محسوس ہوئی۔ اس سے سحرزدہ ہو کر میں نے بے اختیار اپنے ہاتھ پھیلا دیئے۔ یُوں لگتا تھا، پورے سایہ خانہ میں، بہار سما گئی تھی۔
” یہ کیا ہے؟”
میں نے خود سے سوال کیا،
اور اگلے ہی لمحے، میں مموسا کے شگوفوں کی مہک سے آشکار ہوئی۔ میں باغ کے دوسرے کونے تک گئی کیونکہ مجھے علم تھا راستے کے موڑ کے بالکل قریب مموسا کا درخت تھا۔ ہاں، یہ اُدھر ہی تھا، دھوپ کی حِدّت میں جھُومتی ہوئی شگوفوں سے لدی اِس کی شاخیں زمین پر اُگی لمبی گھاس کو چھُو رہی تھیں۔

اس سے قبل اِس دنیا میں ایسی شاندار خوب صورتی کی جھلک کسی چیز میں موجود نہیں تھی۔ اس کے نرم و نازک شگوفے دنیوی لمس سے سکڑ سے گئے تھے۔ ایسا لگتا تھا، جیسے زمین پر جنت کا کوئی درخت اُگا دیا گیا ہے۔ پتیوں کی بوچھاڑ کے راستے چلتی ہوئی میں تناور تنے تک آ پہنچی اور ایک
منٹ تک اُدھر یونہی کھڑی رہی۔ پھر دو ٹیڑھی میڑھی شاخوں کے درمیان چوڑی سی جگہ پر اپنا پاوں رکھ کر، میں درخت کے اوپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے گرفت میں مشکل پیش آ رہی تھی کیونکہ شاخیں بہت بڑی تھیں اور درخت کی چھال میرے ہاتھوں کے لیے تکلیف کا باعث تھی مگر میرے اندر یہ خوش نما احساس بھی تھا، میں کچھ غیر معمولی اور حیران کُن کرنے جا رہی ہُوں۔ پس، میں اوپر چڑھتی چلی گئی حتیٰ کہ ایک چھوٹی سی نشست پر پہنچ گئی جو کسی نے کافی عرصہ پہلے بنائی تھی اور یہ درخت ہی کا ایک حصہ بن گئی تھی۔ میں وہاں کافی دیر تک بیٹھی رہی اس احساس کے ساتھ کہ ایک پری کسی گلابی بادل میں جھوم رہی ہے اور پھر کئی خوش گوار گھنٹے میں نے اسی جنت کے درخت کے نیچے سندر خیالات اور روشن خوابوں کی آرزو میں گزار دیئے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top