آنسو بھی بہادری کی زبان ہیں۔
’ٹریژرلینڈ‘ کا مصنف، رابرٹ لوئی سٹیون سَن سکاٹ لینڈ کا نمائندہ ناول نگار تھا۔ اپنی بیماری کے باعث عرصہ دراز تک بِستر پر پڑے رہنے کے باوجود اُس نے اپنا دامن امید سے ہی وابستہ رکھا۔ وہ ہمیشہ ہر معاملے کا روشن پہلو دیکھا کرتا تھا۔ اُس کی بیوی اس کے مستقل امید پرست رویے پر ہمیشہ متعجب رہتی تھی۔
ایک رور مرض ایسا زور آور ہوا کہ مسلسل کھانس کھانس کر اُس کا بُرا حال ہو گیا۔ مغموم بیوی گھر میں، جِس طرح ممکن تھا، اس کی دیکھ بھال میں لگی ہوئی تھی۔ ماحول کی سختی کم کرنے کی خاطر اُس نے مسکرا کر اپنے شوہر سے سوال کیا،
’’رابرٹ، مجھے لگتا ہے؛ تمہیں اب بھی یقین ہے کہ آج کا دِن بڑا زبردست ہے۔‘‘
سٹیونسَن بھی اُسے دیکھ کر مسکرایا اور اپنے بستر کے ساتھ کمرے کی دیوار پَر کھڑکی کے راستے سے اندر آنے والی سُورج کی کرنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،
’’ہاں، میرا یقین ہے، آج کا دِن بہت زبردست ہے؛ میں دواؤں سے بھری بوتلوں کی اس قطار کو اِس بات کی اِجازت کبھی نہیں دُوں گا، وہ میری امید کے افق کی دھوپ مجھ تک آنے سے روک پائیں۔‘‘
سٹیونَسن جیسے زِندہ دِل کِردار ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ایسے خُوددار لوگوں سے زِندگی سیکھئے۔ مگر اِس باریک نکتے کو کبھی فراموش نہ کیجیے؛ رونا کوئی بُری بات نہیں۔ لوگوں کو رونے کے لیے کندھا ضرور دیجیے۔ بعض اوقات ایسے خُوددار لوگ بھی رونے کی تمنا رکھتے ہیں پَر ہم ان سے یہی امید کرتے ہیں کہ وہ ایسے باحوصلہ انسان ہیں جو رونا تو دُور کی بات، اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
یوں، ہم اُن لوگوں کے رونے کی ’سہولت‘ بھی اُن سے چھین لیتے ہیں۔ ہم آنسو بہانے والے کو کمزور اور بزدل قرار دے کر بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جب چوٹ لگے؛ آنسو بہنا فطری بات ہے، بزدلی نہیں۔
ایڈریئن رِچ نے کہا تھا،
’’(ہمارے درمیان) ایسی ہستیاں ضرور ہونی چاہیئیں، جِن کے پاس بیٹھ کر ہم آنسُو بہائیں اور پھِر بھی ہمارا شمار جَنگ جُو سپاہیوں میں ہو۔‘‘
ایک ماں کے قریب کھیلتا ہوا دو تین برس کا بچہ اچانک چوٹ کھانے پر بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس ہی آتا ہے اور ماں اُسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے مسلسل اسے اپنے ’بہادر بچے‘ کے لقب سے پکارتی ہے۔ بچہ سینہ تان کر واپس کھیل میں لگ جاتا ہے۔
سوچیں، وہ ہر بار چوٹ کھا کر ماں کی طرف ہی فریاد لے کرآتا ہے ، لیکن پھِر بھی وہ ’بہادر بیٹا‘ ہی رہتا ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹