میں مسجودِ ملائک ہوں مجھے انسان رہنے دے
حُسنِ بیاں، بلاشبہ اِنسان کے حُسن کو مزید نکھار دیتا ہے لیکن دُوسرے پہلو کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں کہ بعض اوقات خُوشامدی افراد حُسنِ بیاں کا دِل فریب لِبادہ اوڑھ کر ہمارے اِرد گرد بڑی مہارت سے اپنے فریب کا جال بُنتے چلے جاتے ہیں۔ایسے افراد سے دُور رہیں اور خُود بھی مکر و فریب کا یہ لباس پہننے سے گریز کریں۔
سکندرِ اعظم کو کُچھ بھِڑوں نے کاٹ لیا۔ جب وہ انہیں اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا تو ایک درباری خوشامدی ادب سے بولا،
’’عالی جاہ! میں اِن بھِڑوں کو دُوسری بھِڑوں سے برتر خیال کرتا ہوں کیوں کہ انھوں نے آپ جیسی مہان ہستی کے خُون کا ذائقہ چکھا ہے۔‘‘
مقامِ افسوس ہے، ہمیں بھی ایسے خُوشامدیوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جو ذاتی مفاد کے لیے ہمیں اِنسان سے دیوتا بنا دیتے ہیں۔ انسان، اہم ترین ہے؛ اُس کا دُنیاوی مرتبہ نہیں۔ اِنسان کو اگر آپ ’مسجودِ ملائک‘ سمجھتے ہیں تو اس کے ’دنیاوی مرتبے‘ کو خراج تحسین پیش کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ’شرفِ اِنسانیت‘ سے گِر کر تو نہیں وہ مرتبہ حاصِل کِیا گیا۔’
اِنسان کو پہلے سراہیے، بعد میں اُس کے دُنیاوی مرتبے کو۔
کیوٹو کا گورنر زین ماسٹر کِیچو سے ملاقات کی غرض سے عبادت گاہ میں آیا۔ اُس کا وِزِیٹنگ کارڈ لے کر جب اس عبادت گاہ کا خادم ماسٹر کے پاس پہنچا تو ماسٹر نے کارڈ دیکھ کر کہا،
’’مجھے اس شخص سے کوئی سروکار نہیں۔ اُسے کہو، واپس چلا جائے۔‘‘
خادِم نے گورنر کو کارڈ واپس کِیا تو گورنر کو کچھ یاد آگیا۔ اُس نے کارڈ لیا اور اُس پر درج یہ الفاظ مِٹا دیئے، ’کویوٹو کا گورنر‘ اور خادِم سے کہا،
’’ازراہِ کرم، کارڈ واپس لے کر جاو اور ماسٹر کو دوبارہ دِکھاو۔‘‘
جب کِیچو نے کارڈ دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہا،
’’ارے واہ، کِٹاگکی مِلنے آیا ہے! بُلاو، میں اُس سے مِلنا چاہتا ہوں۔‘‘
اپنا ظرف بلند کیجیے۔ ’مرتبے‘ سے نہیں اِنسان سے مِلیے۔ آپ کے اِرد گِرد کئی ایسی ہستیاں ہیں جِن کے پاس دنیاوی جاہ و جلال تو نہیں لیکن انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کے منصب کا بھرم انہیں سے قائم ہے-
🌹 Sharing is Caring 🌹