دُوسری چیزوں سے یکساں محبت کرو۔
ہر اِنسانی رِشتے میں محبت اورتحمل و بردباری بہت ضروری ہیں۔ محبت میں تحمل اور بردباری شامل ہوں تو اس سے بڑی طاقت دُنیا میں کوئی اور نہیں۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب ہم ’آئیڈیلزم ‘ سے نکل کر ایک دوسرے کو سنیں، اور محض سنی سنائی کو اَن سُنی کردیں۔ ایک دُوسرے پر اعتماد کرنا سیکھیں۔
ایک نو بیاہتا جوڑے کی شدید تمنا تھی، اُن کے درمیان محبت کبھی کم نہ ہو بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی رہے۔ انھوں نے ایک دانا بزرگ سے سوال کیا،
’’ہم اپنی محبت کو دیرپا بنانے کے لیے کیا کریں؟‘‘
بزرگ نے جواب دِیا،
’’دُوسری چیزوں سے، تُم دونوں یکساں محبت کرو۔‘‘
ازدواجی تعلقات میں دراڑ تب پیدا ہوتی ہے جب میاں بیوی اپنی اپنی پسند اور نا پسند میں ایک دوسرے سے اختلافات کرتے ہوئے بعض اوقات اِس قدر دُور نکل جاتے ہیں کہ ان کا رِشتہ نازک موڑ پہ پہنچ جاتا ہے۔ حالانکہ، اختلافِ رائے رکھنا کوئی غلط بات نہیں۔ زِندہ لوگ ہی آپس میں اِختلافِ رائے رکھتے ہیں، مُردوں کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ مگر اختلافات جب برداشت کی سرحدیں پھلانگ کر ذاتی مخالفتوں میں ڈھل جاتے ہیں تَو ان کی زد میں سب سے پہلے محبت ہی آتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا،
’’ محبت کرنے والے ایک دوسرے کی سمت نہیں بلکہ ایک ہی سمت دیکھتے ہیں۔‘‘
البرٹ شوائٹزر اوسط درجے سے بھی کم تر ذہانت کا ایک طالب عِلم تھا۔ مگر دِن رات محنت کی بدولت اُس نے متنوع مضامین میں مہارت حاصل کر لی اور اُن پر کُتب بھی تحریر کیں۔ تیس برس کی عُمر میں اُس نے ڈرامائی انداز میں شعبۂ طِب میں بھی داخلہ لے لیا کیوں کہ اُس کی نظر سے ایک مضمون گزرا تھا جِس میں کانگو کے باشندوں کی خستہ حالی اور مہلک جسمانی امراض کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر بے یار و مددگار موت کا سفر طے کرنے کی دِلخراش رُوداد بیان کی گئی تھی۔ اُس نے فیصلہ کر لیا، وہ اُن لوگوں کی مدد کے لیے افریقہ جائے گا۔دوستوں نے اُسے روکا اور سمجھایا؛
اگر اُن کی مدد ہی کرنی ہے تو فنڈز جمع کر کے ان کے لیے بھیجو تا کہ وہ اپنا معیارِ زِندگی بہتر بنا سکیں۔
مگر اُس نے کوئی دَلِیل نہیں مانی اور افریقہ جا کر اُن لوگوں کی خِدمت ہی کو زندگی کا نصب العین مان لیا۔ اُس نے جِس لڑکی کو شادی کی تجویز پیش کی، اُس کا نام ہَیلِین بَریسلَوو تھا۔اُس نے ہیلِین کو شادی کا پیغام بھی قدرے منفرد انداز میں پیش کیا،
’’میں افریقہ میں اپنی خِدمات دینے کے لیے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ کیا تُم میرے ساتھ بوڑھا ہونا چاہو گی اور میرے ساتھ رہ کر غریب لوگوں کی مدد کرتے ہوئے اپنی پوری زندگی جنگل میں گزارنا پسند کرو گی؟‘‘
ہیلِین کا ردِعمل بھی غیر معمولی تھا،
’’ البرٹ! مجھے تم سے محبت ہے۔ اس لیے، اب میں نرس بنوں گی اور تُم میرے بغیر نہیں جا سکو گے۔‘‘
اُس کے بعد دونوں نے اپنی اپنی زندگی افریقہ کے لیے وقف کر دی۔
وہ ایک دُوسرے کی طرف نہیں بلکہ ’ایک ہی طرف‘ دیکھنے کے معجزے سے آشنا تھے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹