خُود کو بار بار مت دہرائیے۔
اَن کہے الفاظ ہمارے قیدی ہوتے ہیں اور جب زباں سے ادا ہو جائیں تو پھر ہمارے آقا بن جاتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں اختصار برتیے۔ خُود کو بار بار مت دہرائیے۔ کِسی کو کوئی واقعہ سُنا چکے تو اُسے بار بار دُہرا کر دوسروں کی سماعت کو اذیت سے دوچار مت کیجیے۔
ایک سیاست دان دو گھنٹے سے تقریر کر رہا تھا۔ ایک شخص وہاں پہنچا اور اپنے دوست سے پوچھا، ۔
۔ ’’ یہ ابھی تک تقریر کر رہا ہے؟آخر اِس کی گفتگو کا موضُوع کیا ہے؟‘‘ ۔
دوست نے بے بسی سے جواب دیا، ۔
’’پتہ نہیں، اُس نے ابھی تک تو نہیں بتایا۔‘‘
کئی تقاریب، محافل، اجتماعات وغیرہ محض اس لیے اکتاہٹ کا باعث بن جاتے ہیں کہ مخاطب بس بول ہی رہا ہوتا ہے۔
ونسٹن چرچل کو ایک بار آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنی تقریب میں خطاب کی دعوت دی۔ جب چرچل سٹیج پرجلوہ گر ہوا تو ہر طرف تالیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اُس نے دونوں ہاتھ لہرا لہرا کر اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور پھِر جونہی اُس نے خاص ادا سے اپنا ہیٹ پوڈیم پر رکھا تو ہر طرف ایک دَم خاموشی چھا گئی۔
چَرچل نے ایک بار چاروں طرف سامعین پر نظر کی اور پھر وہ عظیم مقرر یکلخت دھاڑا، ۔
’’کبھی ہار نہ مانو۔‘‘
کچھ سیکنڈز خاموشی رہی اور پھِر وہ پنجوں کے بَل اُوپر اٹھا اور وہی الفاظ دہرائے، ۔
’’کبھی ہار نہ مانو۔‘‘
اُس کے گرج دار لہجے نے سامعین میں وجد سا طاری کر دیا۔اُس کے بعد پھِر سے خاموشی چھا گئی اور چرچل شانِ بے نیازی سے سٹیج سے نیچے اُتر گیا۔
اُس کی پُرمغز تقریر ختم ہو چُکی تھی۔
🌹 Sharing is Caring 🌹