بے جان نظم


یہ ایک بے جان نظم ہے
آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گی
آپ کے راستے میں نہیں آئے گی
ہو سکتا ہے
آئندہ یہ آپ کو نظر ہی نہ آئے

اسے تو کوئی بھی ٹھوکر مار کے
فضا میں اچھال سکتا ہے
یا ہاتھ میں اٹھا کے
چھت سے ٹکرا سکتا ہے
آسمان کے نیچے یا دیوار کے ساتھ
جب یہ ادھر ادھر لڑھک رہی ہو
آپ اس پر دل کھول کے ہنس سکتے ہیں
اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئیں
ایک بے جان نظم تو رو بھی نہیں سکتی

آپ زیادہ خوش قسمت ہیں
جان دار ہیں
کچھ بھی کر سکتے ہیں
ایک بے جان نظم کی
جان بھی لے سکتے ہیں۔



(شاعر: ذیشان ساحل)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top