خواب کو خواب کی خوراک نہ ملے تو یہ مر جاتا ہے۔

انطونیو پورکیا نے پوری عُمر خود کو معاش کے بکھیڑوں میں ڈالے رکھا اور اپنے بہن بھائیوں کی کفالت کی فِکر میں زِندگی بسر کر کے چپکے سے اپنے خالِق حقیقی کے پاس پہنچ گیا۔ انطونیو پورکیا اِٹلی میں پیدا ہُوا۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد ماں اور بہن بھائیوں سمیت ارجنٹینا کوچ کر گیا۔ اُس نے پُوری عُمر سادگی سے بسر کی اور اپنے بہن بھائیوں کے لیے باپ کی طرح سہارا بنا رہا۔

بنجمن فرینکلن نے کہا تھا، ۔
۔ ’’اگر آپ مرنے اور قبر میں جِسم کے بوسیدہ ہونے کے بعد بھی ناقابلِ فراموش رہنا چاہتے ہیں تو پھِراپنے بعد ’قابلِ مطالعہ‘ تحریریں چھوڑ جائیں یا ’قابلِ تحریر‘ کارنامے۔‘‘ ۔

انطونیو پورکیا بھی اپنے بعد اقوال کی ایک چھوٹی سی کتاب (Voices) چھوڑ گیا۔ اُس کتاب کا ایک ایک قول ’جوہر پارہ‘ ہے۔ ان اقوال کو پڑھ کر عجیب سی روحانی تسکین اور سرور کی کیفیت حاصِل ہوتی ہے۔ اس نے اپنے اندر دبکے بیٹھے احساسات و جذبات کو بے حد سادہ لفظوں میں اتنی سہولت اور مہارت سے بیان کیا ہے کہ قاری ان شاندار جملوں میں چھپے ’وجودیت کے کرب‘ کے ایسے بے ساختہ اظہار پر ’آہ‘ اور ’واہ‘ کے درمیان ہی جھولتا رہتا ہے۔
اپنے بہن بھائیوں کے لیے زندگی وقف کرنے والا بالآخر اپنی تحریر کے ذریعے دائمی زِندگی پا گیا۔ درج ذیل چند چمکتے موتیوں سے آپ بھی حَظ اُٹھائیے۔


٭ جسے ہرشے کا خالی پن نظر آ گیا، وہ جلد یہ بھی جان جائے گا، ہر شے میں کیا بھرا ہوا ہے ؟۔

٭ اپنے رستے پر چلنے سے پہلے میں خود ہی اپنا راستہ تھا۔

٭ جس نے مجھے کچے دھاگے سے باندھ رکھا ہے، یہ اس کی طاقت کا کمال نہیں بلکہ وہ دھاگہ طاقتور ہے۔

٭ میری غربت مکمل نہیں، اسے ابھی میرا وجود درکار ہے۔

٭ اگر نظریں اوپر نہیں اٹھاو گے تَو اِسی خوش فہمی میں رہو گے؛ تُم بلند ترین مقام پر براجمان ہو۔

٭ ایسا کوئی بھی نظر نہ آیا جِس کے جیسا میں بن پاتا؛ اِس لیے، میں ایسا ہی رہا۔

٭ بے یقینی کو بھی ایک کمزور سے یقین کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

٭ جانتا ہُوں ،تیرے پاس کچھ نہیں۔ اسی لیے تو تجھ سے سب کچھ مانگ رہا ہوں تا کہ تیرے پاس سب کچھ ہو۔

٭ ہر کوئی، یاد بن جانے کی آس میں جیون کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

٭ میں نے اس مٹی کو کبھی چھُوا تک نہیں، جِس سے میرا خمیر اُٹھایا گیا۔

٭ سوتے وقت،میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں اور جب بیدار ہوتا ہوں تو ایک مسلسل طویل خواب کی آغوش میں سورہا ہوتا ہوں۔

٭ لوگوں نے تم سے محبت کرنا نہیں بلکہ دھوکا دینا چھوڑ دیا ہے اور تُم اس دھوکے میں ہو کہ انہوں نے تُم سے محبت کرنا چھوڑ دی۔

٭ جب کبھی یہ احساس غالب آ جائے کہ میں جہنم میں گھِرا ہُوا ہُوں تو پھر مجھ سے آنسو بھی بہائے نہیں جاتے۔ تب سجھائی ہی نہیں دیتا کہ آنسو بہاوں تو کِس بات پر؟

٭ لوگوں کے قریب آ کر ہی تُم اس فاصلے کو جان پاو گے جو تمہیں اُن سے دُور کرتا ہے۔

٭ جو دنیا کے خالی پن کو خود فریبیوں سے نہیں بھرتا؛ وہ تنہا رہ جاتا ہے۔

٭ تمہیں یہ خوش فہمی کہ تُم مجھے قتل کر رہے ہو اور مجھے یہ خوف کہ تُم خود کشی کر رہے ہو۔

٭ جزو جب تک جزو رہے شور کرتارہتا ہے ، اور جب ایک بار کُل بن جائے تو خاموش ہو جاتا ہے۔

٭ کیچڑ، کیچڑ سے الگ ہوجائے تو کیچڑ نہیں رہتا۔

٭ جب کبھی، ذہن میں ایسا خیال آئے جِس کا تعلق دُنیا سے نہ ہو تو یوں لگتا ہے، جیسے اِس دُنیا کی وسعت اور بڑھ گئی ہے۔

٭ عدم محض عدم نہیں بلکہ ہماری قید گاہ بھی ہے۔

٭ دِن بھی پھِر اس کا مذاق نہیں اڑاتا جو اپنی رات کا مذاق نہیں اڑاتا۔

٭ جِس لمحے مُجھے یقین ہو کہ پتھر صِرف پتھر ہے اور بادل فقط بادل ہے؛ تو دراصل، وہ میرالمحۂِ تغافل ہے۔

٭ تمہارے ہاتھ میں پکڑا ہُوا پھُول یُوں تَو آج ہی کھِلا ہے مگر اب اس کی عمر بھی اتنی ہے جتنی کہ تمہاری ہے۔

٭ کبھی تو یوں لگتا ہے، جو دیکھتا ہوں، وہ موجود ہی نہیں کیونکہ جو دیکھتا ہوں اسے پہلے سے دیکھا ہوتا ہے اور جو میرا دیکھا ہُوا ہے، وہ تو ہے نہیں۔

٭ کچھ اذیتیں اپنی یادداشت کھو چُکی ہیں۔ اور اب تو انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ وہ اذیت کیوں ہیں۔

٭ کہنے والے یہی کہیں گے؛ تُم غلط راستے پر ہو، اگر رستہ تمہارا اپنا ہے۔

٭ پنکھ، زمین ہوتا ہے اور نہ آسمان۔

٭ ہم سب کی ایک ایک دنیا ہے مگر ہم سب کی ایک دنیا نہیں ہے۔

٭ زخم ہلکا ہو تو میں آہیں بھرتا رہتا ہوں اورجب گہرا ہو جائے تو مجھے چُپ سی لگ جاتی ہے۔

٭ میں ہر چیز سے ایک قدم دُور چلا آیا ہوں اور اب میں ہر چیز سے ایک قدم فاصلے پر ہوں۔

٭ آنسووں سے بھی زیادہ اذیت ناک چیز ان کا نظارہ ہے۔

٭ غم ہمارا پیچھا نہیں کرتا؛ ہمارے آگے آگے چلتا ہے۔

٭ یہ دنیا لفظوں کے بِنا کچھ سمجھ نہیں پاتی اور افسوس تُم نے دنیا میں لفظوں کے بغیر ہی جنم لیا۔

٭ خُدا نے انسان کو بے حد عطا کیا ہے مگر انسان پھر بھی انسان ہی سے کچھ چاہتا ہے۔

٭ جب سب کچھ ختم ہو جائے، تو ہرصبح کا حسیِں منظر بھی اداسی لیے آتا ہے۔

٭ صراطِ مستقیم پر چلنے سے فاصلے کم ہو جاتے ہیں، اور زندگی بھی۔

٭ جب کسی کے پاس کوئی خزانہ نہیں ہوتا تو پھر رات سے بڑھ کر خزانہ اورکیا ہوسکتا ہے۔

٭ درخت تنہا ہوتے ہیں، بادل تنہا ہوتے ہیں، ہر چیز تنہا ہوتی ہے جب میں تنہا ہوتا ہوں۔

٭ ایک صدی بھی ایک لمحے میں ایسے غائب ہو جاتی ہے ، جیسے ایک لمحہ ، دوسرے لمحے کو نگل جاتا ہے۔

٭ کبھی کبھار، رات کے وقت روشنی صِرف اس لیے جلاتا ہوں کہ مجھے کچھ دکھائی نہ دے۔

٭ جو شخص بُرائی کی قید میں ہے، وہ اِس خوف کی بِناپر فرار نہیں چاہتا ،کہیِں بُرائی کا سامنا ہی نہ کرنا پڑ جائے۔

٭ اگر تُم اپنی راہ نہیں بدل رہے تو اپنا راہنما کیوں بدل رہے ہو؟

٭ میں نے ایک مُردہ شخص دیکھا اور اُس کے سامنے میں_ حقیر، حقیر تر، مزید حقیر تر _ ہوتا چلا گیا۔ او میرے خُدا ! ایک مُردہ شخض کِس قدر بڑاہوتا ہے۔

٭ ہاں! اِنسان کو اذیت برداشت کرنی چاہیے، چاہے لاحاصل ہی سہی، تا کہ اس کا زِندہ رہنا لاحاصل نہ جائے۔

٭ کوئی نہیں سمجھ پائے گا، تُم اپنا سب کچھ دے چکے ہو، اس لیے مزید عطا کرتے چلے جاو۔

٭ جو یقین کرنا ہی نہیں جانتا، اسے جاننا بھی نہیں چاہیے۔

٭ بہت کم لوگ فنا تک پہنچ پاتے ہیں کیوں کہ یہ رستہ ہی بہت طویل ہے۔

٭ میں اپنے اندر اس قدر کَم ہوں کہ لوگ مجھ سے جیسا بھی برتاو کریں، میں خاطر میں کم کم ہی لاتا ہوں۔

٭ اپنے وجود کا کچھ حصہ جہاں ہم نے رکھا ہوتا ہے، ہمیں ہمیشہ یقین ہوتا ہے کہ وہاں کچھ ہے، خواہ وہاں کچھ بھی نہ ہو۔

٭ کاش! یہ ایک لمحہ ہمیشہ ایسا ہی رہے؛ کوئی ایک ستارا، کوئی ایک بادل اپنی جگہ سے نہ ہٹے، کاش ! کاش یہ ایک لمحہ ۔

٭ جب، کسی کو یہ احساس ہو جائے کہ مذاق کا مرکز خود اس کی اپنی ذات ہے، تو پھر وہ کبھی نہیں ہنستا۔

٭ میری خاموشی میں صرف میری آواز ہی غائب ہے۔

٭ کچھ چیزیں اس طرح مکمل طور پر ہماری ذات کاحصہ بن جاتی ہیں، ہم انہیں بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔

٭ ایک شخص کا اعترافِ جُرم، سب کو منکسرالمزاج بنا دیتا ہے۔

٭ میرے پاس کچھ بھی تو نہیں سوائے دُوریوں کے۔

٭ جب میں مروں گا، تَو یہ پہلی بار ہو گا ،میں خُود کو مرتا ہُوا نہیں دیکھ پاوں گا۔

٭ ہاں، میں جا رہا ہوں۔ تُم پر آنسو بہانے سے تَو کہیِں بہتر ہے، میں تُم سے دُوری پر آنسو بہاوں۔

٭ میں جانتا ہوں، میں نے تمہیں کیا دیا ہے مگر مجھے یہ نہیں معلوم، تم نے لِیا کیا ہے۔

٭ چاہے کہیِں سے بھی شروعات کرو، کوئی فرق نہیں پڑتا، سب رستے عدم ہی پر ختم ہوتے ہیں۔

٭ بڑا دِل تھوڑی سی چِیز سے بھر جاتا ہے۔

٭ تُم ان سے بندھے ہوئے ہو، مگر تمہیں وجہ نہیں معلوم کیوں کہ وہ تُم سے نہیں بندھے ہوئے۔

٭ کسی چیز کا کھونا، ہمیں تب تک افسردہ رکھتا ہے جب تک ہم اسے مکمل کھو نہ دیں۔

٭ تمہیں غم ہے کہ لوگوں نے تمہیں چھوڑ دیا، اور تُم گِرے پھِر بھی نہیں۔

٭ ہر چیز میں کچھ نہ کچھ تاریکی ہوتی ہے، حتیٰ کہ روشنی میں بھی۔

٭ ہاں میں اپنا ہی اسیر ہوں مگر اب تو میں یہ بھی بھُول گیا ہوں کہ اس بات کا مطلب کیا ہے۔

٭ مجھے تُم سے اتفاق نہیں لیکن اگر تمہیں بھی خود سے اتفاق نہیں تو مجھے تُم سے اتفاق ہے۔

٭ کچھ چیزیں صرف اپنے وجود کے خالی پن کو ظاہر کرنے کے لیے میری ہو گئیں۔

٭ جب کسی کھوئی ہوئی چیز کو پھر سے کہیِں دیکھتا ہوں تو سب سے پہلے یہ خلش اٹھتی ہے، میں اسے کھو بیٹھا ہوں۔

٭ میرے تخیل کی آزادی کی قیمت مجھے زمین سے باندھ کر لی گئی۔

٭ کھو دینے کا ڈر ہی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔

٭ جب یہ احساس ہوکہ تم میری بات غور سے سن رہے ہو، تو یوں لگتا ہے؛ مخاطب تُم ہو، اور سُن میں رہا ہوں۔

٭ کسی ایک چیز میں ہر چیز دیکھنے کی نسبت میرے لیے یہ زیادہ آسان ہے کہ ہر چیز میں ایک ہی چیز نظر آئے۔

٭ جب بھی نیند سے بیدار ہوتا ہوں، یہی احساس ہوتا ہے کہ ” نہ ہونے” میں کتنی سہولت ہے۔

٭ جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو اپنا جہنم ببھی ساتھ لے کر جاوں گا، تنہا کبھی نہیں جاوں گا۔

٭ جو چیز جس جگہ تبدیل ہوتی ہے وہاں ایک خلا چھوڑ جاتی ہے۔

٭ انسان کمزور ہے مگر جب وہ طاقت کا دعویٰ کرتا ہے تو پھِروہ کمزور تر ہو جاتا ہے۔

٭ حقیقی اشیاء کا وجود ہوتا ہے مگر افسوس ہم غیر حقیقی اشیاء کی خوبیاں یا خامیاں ان سے منسوب کرتے رہتے ہیں۔

٭ جہاں ہر کوئی آنسو بہا رہا ہو، وہاں آہ و زاری سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

٭ سورج رات کو روشن کرتا ہے، اسے روشنی میں تبدیل نہیں کرتا۔

٭ جب میں اسے دور پھینکتا ہوں جس چیز کی مجھے طلب نہیں ہوتی تو وہ میرے قدموں ہی میں آ گِرتی ہے۔

٭ ہر کھلونے کو ٹوٹنے کا حق حاصل ہے۔

٭ ’’وہ سب میرے جیسے ہیں‘‘، میں خود سے کہتا ہوں، اور اس طرح میں اُن کے خلاف اپنا دفاع کرتا ہوں اور اس طرح میں اپنے خلاف اپنا دفاع کرتا ہوں۔

٭ اپنی جو چیزیں میں مکمل طور پر کھو چکا ہوں، دراصل وہ چیزیں ہیں، جنہیں میں نے کھودِیا تو وہ کِسی اور کو بھی نہ مِل پائیِں۔

٭ ہر وہ چیز جسے میں اپنے اندر قید کر لیتا ہوں جانے کہیں اور وہ آزاد گھومتی کیوں دکھائی دیتی ہے۔

٭ میرے اندر ایک مُردہ شخص زِندہ رہنے کے درد کی اذیت برداشت کرتا چلا جا رہا ہے۔

٭ کوئی بھی ہمیں اس پار جانے میں مدد نہیں دے سکتا، کیوں کہ اس پار صِرف تاریک خلا ہے۔

٭ بھرے ہوئے دِل میں ہر چیز کے لیے جگہ ہوتی ہے اور خالی دِل میں کسی چیز کے لیے گنجائش نہیں ہوتی۔ اب یہ بات کون سمجھے؟

٭ چونکہ میں ہمیشہ یہی دعا کرتا رہتا ہوں ،میرے ساتھ ایسا ہو جائے اس لیے میرے ساتھ جو بھی ہو رہا ہوتا ہے اس کے لیے میں کبھی تیار نہیں رہتا۔ کبھی نہیں۔

٭ اگر اب بھی تمہارے پاس کچھ ہے تو تُم نے ابھی سب کچھ نہیں کھویا۔ اب بھی تمہارے پاس کھونے کو کچھ ہے۔

٭ جن بچوں کا ہاتھ کوئی نہیں پکڑتا صرف انہی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ بچے ہیں۔

٭ محتاجی ہی انسان کو محتاجی سے گریز سکھاتی ہے۔

٭ خطا کی کھلے عام سرزنش ایک اور خطا ہے۔

٭ جو بات کسی نے مجھ سے برسوں پہلے کہی تھی، اُسے میں آج سُن رہا ہوں۔

٭ جن زنجیروں سے میں بندھا ہوں، جب ان میں سے کوئی بھی توڑنے کی کوشش کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے، میں خود کو کم تر کرتا چلا جا رہا ہوں۔

٭ جسے وہ چشمہ ہی نہیں ملتا، جِس میں اُس نے آنسو بہانے ہیں؛ وہ بے چارہ روتا ہی نہیں۔

٭ تم ہمیشہ خوابوں کا ذکر کرتے رہتے ہو، آخر خواب دیکھتے کب ہو؟

٭ جس نے ہزاروں چیزیں ایجاد کیں اور جس نے کچھ بھی ایجادنہیں کیا، دونوں میں ایک سی طلب باقی رہتی ہے، کہ کچھ ایجاد کریں۔

٭ جب میں کسی ذی نفس کے قریب ہوتا ہوں تو اس سے آشنائی کی طلب دُور بھاگ جاتی ہے، اور جب اس سے دُور ہوتا ہوں، تو آشنائی کی وہی طلب پھِرسے میرے پاس آجاتی ہے۔

٭ جب وہ مجھے’ اپنا‘ کہہ کر پکارتے ہیں تو پھر میں ’کوئی بھی نہیں‘ ہوتا۔

٭ جو اپنی روٹی سے بہشت تعمیر کرتا ہے، وہ اپنی بھوک سے جہنم کی بنیاد بھی رکھ لیتا ہے۔

٭ کسی کو ڈرانے کی نسبت خود ڈر جانا کم تحقیر آمیز بات ہے۔

٭ آپ کو آنسووں کا وہ دریا کبھی دکھائی نہیں دے گا جس میں آپ کے اپنے آنسو شامل نہیں ہیں۔

٭ ہر ایک سے تلخ لہجے میں اپنی محرومیوں کا شکوہ نہ کرو کیونکہ شاید ہر کوئی ان محرومیوں کا جزوی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔

٭ جس نے کھُلی آنکھ سے کوئی منظر دیکھا، وہ اسے دوبارہ بھی دیکھ سکتا ہے مگر اب کے آنکھ بند کر کے۔

٭ جو پھُول بے موسم کھِلا ہے، اس کی افزائش نہ ہونے دو۔

٭ میرا خوش قسمت ترین دِن آیا اوررخصت بھی ہو گیا، پر میں نہیں جانتا کہ کیسے۔ کیوں کہ جب وہ آیا تو صبح کا اُجالا ہی نمودار نہیں ہُوا اور جب رخصت ہُوا تو شام کے جھٹپٹے سے نہیں گزرا۔

٭ جو چیز طلب کرتے ہی مِل جائے، اس کا ملنا بے سود ہے اور اس کی طلب بھی بے کار۔

٭ خواب کو خواب کی خوراک نہ ملے تو یہ مر جاتا ہے۔

٭ مجھے جس چیز کی طلب ہے، وہ اس کا نام جانتے ہیں اور یوں وہ اس وہم میں ہیں کہ وہ جانتے ہیں، مجھے کس چیز کی طلب ہے۔

٭ لو، تمہاری طلب رخصت ہوئی کیوں کہ تم آ گئے ہو۔

٭ وہ کم ترہے جو خود کو دِکھانے کے لیے خود کو چھپاتا ہے۔

٭ تعریف کرنے کی نسبت محبت کرنا، میرے لیے ہمیشہ آسان تھا۔

٭ جن زنجیروں نے ہمیں مضبوطی سے جکڑ رکھا ہے، وہی تَو ہیں جنہیں ہم ایک بار توڑ چکے ہیں۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top