خوشآمدی؟ ۔۔۔۔ خوش آمدید ۔۔۔

زمانے میں خوشامد کا چلن اس لیے بھی رائج رہتا ہے کہ ہم دوسروں سے اپنی تعریف سن کر کسی اور ہی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں، چاہے وہ تعریف جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ سراہے جانے کے لیے ہم خوشامد پر بھی خوش رہتے ہیں اور خوشامدی افراد ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہمیں خود سے دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسی خود فریبی ہے جس میں انسان جانتے بوجھتے آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے، حقیقت بتانے والے ہمیشہ کم یاب ہوتے ہیں اور اکثر عتاب کا شکار بھی رہتے ہیں کیونکہ وہ ایسا آئینہ ہوتے ہیں جن میں ہماری حقیقی صورت نظر آتی ہے جسے ہم دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ ایسے کم یاب لوگوں سے خوشامد پسند ایسے دور رہتا ہے اندھیرا روشنی سے دور ہوتا ہے۔

دو آدمی محوِ گفتگو تھے۔ ایک امیر تھا اور دُوسرا غریب۔
امیرنے غریب سے سوال کِیا،۔
۔’’اگر میں اپنے سَونے کے 100 ٹُکڑوں میں سے بِیس تمہیں دے دُوں ، تو کیا تُم میری خُوشامد کرو گے؟‘‘۔
۔’’مگر یہ تو بہت کم معاوضہ ہے۔ اِتنے کم معاوضے پر، میں بھلا کیوں خُوشامد کرُوں ؟‘‘
غریب نے جواب دیا۔
۔’’ اچھا، اگر سونے کے نِصف ٹُکڑے دُوں تو پھِر میری خُوشامد کرو گے؟‘‘۔
۔’’اگر یہ بات ہے تو پھر ہم دونوں برابر ہو جائیں گے اور خُوشامد کی کوئی وجہ ہی نہیں رہے گی۔‘‘۔
۔’’اور اگرسونے کے سبھی ٹُکڑے تمہیں دے دُوں تو میری خُوشامد کرو گے یا نہیں؟‘‘۔
۔’’یہ تو انتہائی احمقانہ سوال ہے۔ سارے سونے کا مالک ہی میں ہُوں گا تو اس کے بعد بھی کیا مُجھے تمہاری خًُوشامد کرنے کی ضرورت ہو گی۔‘‘۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top