رکھِیں لوکاں نال فقیرا ایسا بیہن کھلون

آپ چاہیں تو اپنی شخصیت کو خوشبو میں ڈھال لیں جو سب کو راحت دیتی ہے۔ چاہیں تو، گرد و غبار کی مانند بن جائیں جس کے ختم ہونے کے بعد ہی سانس بحال ہوتی ہے۔

بقول آسکروائلڈ؛
۔’’ کچھ لوگ جہاں جاتے ہیں وہاں خوشی آ جاتی ہے اور کچھ لوگ جہاں سے چلے جاتے ہیں وہاں خوشی آ جاتی ہے۔‘‘۔

یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہے؛
ہمارے آنے سے محفل میں رونق آئے یا ہمارے جانے کے بعد لوگوں کو خوشی کا احساس ہو۔

اگر لوگوں سے ہمارا برتاو شائستہ اور مثبت ہو، تو ان کے لیے ہماری شخصیت میں دِلکشی باقی رہتی ہے۔ اگر ہم سر تا پا منفی سوچوں اور عمل سے بھرے رہیں تو دُوسروں کے لیے ہم بوجھ کے سِوا کچھ نہیں ہوتے۔

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے؛
لوگ ہمارے جانے کے بعد رو کر ہمیں یاد کریں یا پھر کلمہ ِ شُکر ادا کریں۔

رکھِیں لوکاں نال فقیرا ایسا بیہن کھلون
کول ہوویں تے ہسن سارے نہ ہوویں تے رون

(فقیر محمد فقیر)

۔(لوگوں کے ساتھ ایسے معاملات رکھو؛ آپ اُن کو میسر ہوں تو انہیں خوشی ہو، اُن سے دُور ہوں تو وہ آپ کو یاد کر کے روئیں۔)

کنساس سِٹی میں ، سخت گرم ، حبس آلود دوپہر میں، آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی، ایک پختہ عمر ڈرائیور کے لیے پہلے ہی تکلیف دہ تھی ۔ اوپر سے بس میں سوار کسی نامعلوم پریشانی کی شکار ایک خاتون ایسے غیر مہذب جملے بولے جا رہی تھی جنہیں دہرایا بھی نہیں جا سکتا۔ بس ڈرائیور اپنے اوپر لگے شیشے سے گاہے بگاہے مشاہدہ کر رہا تھا ۔ اُس خاتون کی بد زبانی پر سبھی مسافر دِل برداشتہ تھے۔

کچھ دیر بعد جب وہ خاتون بس سے اترنے لگی، تب بھی بڑبڑائے جا رہی تھی۔
جونہی وہ نیچے اتری، ڈرائیور بڑے تحمل زدہ لہجے میں بولا:۔
۔”محترمہ! مجھے یقین ہے، آپ پیچھے کچھ چھوڑ کے جا رہی ہیں۔”۔

وہ فورًا پیچھے مڑ کے گھبراہٹ میں بولی۔
” اچھا؟ کیا ہے وہ؟”

۔” بے حد بُرا تاثر” بس ڈرائیور نے جواب دیا۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top