ہماری طرح زندگی کیجیے

زندگی میں چھوٹی بڑی قیامتیں برپا ہوتی رہتی ہیں۔ قیامت آتی اپنی مرضی سے ہے لیکن اس کا جانا ہمارے بس (یا بے بسی) سے جُڑا ہوتا ہے۔ یعنی، ایسا ممکن نہیں کہ زندگی ہو اور درد نہ ملے مگر اُس درد کو اپنے ہاں کب تک ٹھہرانا ہے، یہ ہماری مرضی پر منحصر ہے۔ اسی درد کی شدت میں کمی یا زیادتی بھی ہمارے لگاو اور ردِ عمل سے مشروط ہوتی ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے سر سے گزرنے والی قیامت کو شعور سے گزارنا لازمی ہوتا ہے ورنہ وہ حادثہ ہمارے دِل و دماغ میں آسیب کی طرح قابض ہو جاتا ہے۔ درد کو بہلائیں نہیں، اُس پر فتح حاصل کریں۔ تبھی اس سے نجات ملے گی۔

مشہور فٹبالر کا قول ہے؛
۔’’ میدان میں فتح حاصل کرنے سے پہلے آپ اپنے دماغ میں جیت حاصل کرتے ہیں۔‘‘۔

یاد رکھیں؛
حادثہ کتنا بھی بڑا ہو، شکست کیسی بھی بھیانک ہو، اگر آپ کی سانس چل رہی ہے، تو کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ضروری نہیں خودکشی کیجیے
ہماری طرح زندگی کیجیے

(اکبر معصوم )

جیت ابھی تک آپ کی دسترس میں ہے۔ آسمان ابھی تک جھک کر آپ کی نئی حِکمت عملی دیکھنے کے لیے بے تاب ہے۔


نامور سائنسدان ایڈیسن کی لیبارٹری، دسمبر 1914ء میں مکمل طور پر نذر ِآتش ہو گئی۔ نقصان بیس لاکھ ڈالرز سے زیادہ تھا مگر بلڈنگ کی انشورنس صرف دو لاکھ اڑتیس ہزار ڈالر تھی۔ کنکریٹ سے بنی اس بلڈنگ کے بارے میں یہی خیال تھا، یہ فائر پروف ہے۔
دسمبر کی اس رات، ایڈیسن کی زندگی کا بیشتر کام بپھرے شعلوں نے راکھ بنا ڈالا۔
بلندی کی طرف اٹھتے شعلوں میں، ایڈیسن کا 24 سالہ بیٹا دھوئیں اور ملبے کے ارد گرد دیوانہ وار اسے ڈھونڈتا رہا۔ بالآخر جب اس نے اپنے باپ کو دیکھا تو حیران ہو گیا۔ وہ اُس وحشت ناک منظر پر بڑے سکون سے نظر یں جمائے کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ آگ کے عکس سے روشن تھا اور سفید بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔

چارلس کہنے لگا،” اپنے باپ کو دیکھ کر میرے دِل میں درد اٹھا کیوں کہ عُمر بھر جدوجہد کرنے والا میرا عظیم باپ اب جوان نہیں بلکہ 67 سال کا بوڑھا تھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو چلایّا،۔
”چارلس ، تمہاری ماں کدھر ہے؟ ”
میں نے جواب دیا، مجھے معلوم نہیں تو اُس نے کہا،۔
۔”جاو ڈھونڈو اُسے، اور اِدھر لاو۔ اپنی زندگی میں ایسا دلکش منظر اب بھلا اور کہاں ملے گا اُسے؟”۔

اگلی صبح، ایڈیسن تباہ شدہ عمارت دیکھ کر بولا،۔
۔” تباہی بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہماری ساری غلطیاں جل کر خاک ہو جاتی ہیں۔ خُدا کا شکر ہے، اب ہم ایک نیا آغاز کر سکتے ہیں۔”۔

آگ لگنے کے واقعے کے تین ہفتے بعد وہ اپنا پہلا فونو گراف ( وہ مشین جِس پر ریکارڈ بجائے جاتے ہیں) بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

تمنا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں
تو کانٹوں میں الجھ کر زِندگی کرنے کی خُو کر لے

(اقبال)

۔(دنیا کے اِس باغ میں اگر عزت حاصل کرنے کی خواہش ہے تو کانٹوں میں الجھنے کی عادت ڈال لو۔)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top