ایک ننھی لڑکی کا امریکی صدر کے نام خط

امریکی صدر ابراہم لنکن کو ایک چھوٹی سی بچی گریس بیڈل نے خط لکھا؛ اگر وہ داڑھی رکھ لیں تو اُن کی شخصیت باوقار ہو جائے گی کیوں کہ اُن کے رُخسار بہت پِچکے ہوئے ہیں۔
لِنکن نے اُس معصوم بچی کے مشورے پر عمل کر کے نہ صِرف اُس بچی بلکہ عوام کا بھی دِل جیت لیا۔

لُو سیئل نے اِس دِلکش تاریخی واقعے کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
ویسٹ فیلڈ ٹائون، نیویارک میں، 1860ء کے اکتوبر کی ایک شام ایک گیارہ سالہ بچی گریس بیڈل اپنے کمرے میں ایک تصویر کو گھور رہی تھی جو اُس کے باپ نے ابھی ابھی اسے دی تھی۔ یہ کوئی ڈرائینگ یا پینٹنگ نہیں تھی ،پَر وہ لِنکن کے سر کا ایک ایک بال اور اس کے لباس کی ایک ایک تہ بآسانی دیکھ پا رہی تھی۔
کمرے کی روشنی میں لِنکن کے پچکے ہوئے گال واضح نظر آ رہے تھے۔
”داڑھی؟، ” وہ فوراً چمک اٹھی۔
” کتنی پیاری لگے گی۔” اُس نے خود سے کہا ،” کوئی انہیں بتائے کہ خواتین مَردوں کے چہرے پرداڑھی پسند کرتی ہیں۔”
اگر وہ داڑھی رکھ لیں، تو خواتین اپنے شوہروں سے اصرار کریں گی کہ وہ انہیں ہی ووٹ دیں۔ یُوں وہ صدر بن جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ میں انہیں ضرور بتائوں گی۔”
اُس نے کاغذ قلم پکڑا اور لِنکن کو خط لکھنا شروع ہو گئی۔

مسٹر ابراہم لنکن!۔
جناب عالی،۔
میں گیارہ سال کی ایک چھوٹی سی بچی ہوں پَر چاہتی ہوں کہ آپ امریکہ کے صدر بنیں۔ امید کرتی ہوں کہ ایک ننھی لڑکی کا اتنی بڑی ہستی کو خط لکھنا، گستاخی نہیں خیال کیا جائے گا۔
کیا میری عمر کی آپ کی کوئی بچی ہے؟ اگر ہے، تو اسے میرا پیار دیں اور اُسے کہیں کہ مجھے اس خط کا جواب دے، اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے۔ میرے چار بھائی ہیں اور اُن میں سے کچھ آپ کو ووٹ دیں گے۔ اگر آپ داڑھی رکھ لیں تو میں باقی بھائیوں کو بھی کہوں گی کہ آپ کو ووٹ دیں۔ سچ میں آپ بہت پیارے لگیں گے، کیونکہ آپ کا چہرہ بہت دُبلا پتلا ہے۔ سب خواتین مَردوں کی داڑھی پسند کرتی ہیں اور وہ اپنے شوہروں سے اصرار کریں گی کہ آپ کو ووٹ دیں، پھر آپ صدر بن جائیں گے۔
گریس بیڈل

ان دِنوں صدارتی مہم میں روز تقریبًا 50 خط موصول ہوتے ۔ لنکن صرف دوستوں اور اہم افراد کے خط دیکھ پاتا تھا۔ اس کے دونوں سیکریٹریز، جون نیکولے اور جون ھَے کے خیال میں باقی ڈاک غیر اہم تھی اس لیے لِنکن تک نہ پہنچاتے تھے۔
جون ھَے نے جب گریس کا خط پڑھا تو اسے یہ آئیڈیا پسند آیا پَر جون نیکولے متاثر نہ ہُوا اور تجویز دی، گریس کا خط ردی کی نذر کر دیا جائے۔ دونوں نے خوب بحث کی ، لیکن ایک دوسرے سے متفق نہ ہوئے۔ ٹھیک اسی لمحے لنکن ٹہلتا ہوا کمرے میں آ گیا۔ وہ خط لے کر پڑھنے لگا۔ جلد ہی اس کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر اٹھی۔
کچھ دِنوں بعد گریس کو ایک خط موصول ہُوا۔

پیاری ننھی خاتون!۔
15 اکتوبر کو آپ کا محبت نامہ مِلا۔ افسوس! یہ کس طرح لکھوں، میری کوئی بیٹی نہیں ہے، لیکن میرے تین بیٹے ہیں جن کی عمر سترہ، نو اور سات سال ہے۔ وہ، اور اُن کی والدہ؛ بس یہی میری فیملی ہے۔جہاں تک داڑھی کا معاملہ ہے، وہ تو ہے ہی نہیں اور اگر میں اب رکھ لُوں تو کیا خیال ہے، لوگ اسے احمقانہ سی چونچلے بازی نہ سمجھ بیٹھیں۔
آپ کا بہت زیادہ خیر اندیش،۔
ابراہم لنکن

جب گریس نے یہ خط پڑھا تو آپ اس لڑکی کے خوشی سے بھرپور اس جذبے کو تصور میں لا سکتے ہیں۔

اگلے سال، 16 فروری کو، ایک خصوصی ٹرین نو منتخب صدر لنکن کو اِلّی نائے سے وائٹ ہائوس لے جا رہی تھی۔ ویسٹ فیلڈ کے لوگوں کو معلوم ہوا، ٹرین وہاں کچھ دیر رُکے گی۔ یہ خبر سُن کر بیڈل فیملی بھی اپنی بیٹی گریس کو لیے اُس روز سٹیشن پہنچ گئی۔
گریس اتنے سارے اجنبی چہرے دیکھ رہی تھی کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ کچھ سننے کے لیے متجسس تھے۔ یکایک صدا بلند ہوئی، ” ٹرین آ گئی، ٹرین آ گئی۔”

گریس کی نگاہیں بلند ہوتی گئیں اور اپنے سامنے اتنے سروں کے درمیان اُسے دھیرے دھیرے حرکت کرتا بلیک انجن نظر آیا، اور پھر اسے کئی طرح کے ہیٹ دکھائی دیئے اور اس کے بعد وہ بس ایک اونچا سیاہ ہیٹ ہی دیکھ پائی۔ کچھ لوگ چیخ رہے تھے، ” تقریر! تقریر!” گریس کی سانسیں جیسے رُک سی گئیں اس کے ارد گرد لوگ خاموش تھے۔

پھر اُسے سنائی دیا، ” خواتین و حضرات، اس وقت میری پاس کوئی تقریر نہیں اور نہ تقریر کرنے کا وقت ہے۔ میں آپ کے سامنے صرف اس لیے حاضر ہوا ہوں، آپ مجھے اور میں آپ کو دیکھ سکوں۔ گریس برف کی مانند جم گئی۔ یہ تو لِنکن تھے۔ یہ انہی کی آواز تھی۔ وہ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ اُس نے انہیں دیکھنے کی پوری کوشش کی لیکن بمشکل اُن کا بلیک ہیٹ ہی نظر آیا۔
لنکن نے پھر سے بات کی، ” اس پرچم کے سائے تلے، آپ سے ایک سوال ہے؛ کیا آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے جیسے کہ اس ملک کے صدر کو ضرورت ہے۔”۔
لوگوں نے اپنے ہیٹ ہوا میں اچھالے، بازو ہلائے اور چلّائے،۔
۔” ہم آپ کا ساتھ دیں گے، ضرور دیں گے۔” ۔
اور پھر وہ خاموش ہو گئے کیونکہ لنکن کچھ اور بھی کہنا چا رہے تھے۔

اسی جگہ سے، مجھے ایک لڑکی نے خط لکھ کر مشورہ بھی دیا تھا کہ مجھے ظاہری شکل و صورت میں بہتری لانی چاہئے۔ میں اس کا شکر گزار ہوں۔ اگر وہ یہاں موجود ہے تو میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اُس کا نام گریس بیڈل ہے۔”

گریس کا باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر پلیٹ فارم کی جانب چلنے لگا۔ لوگ انہیں راستہ دیتے گئے۔ اُس کے باپ نے اُسے اٹھا کر پلیٹ فارم پر رکھ دیا۔
اسے پیار بھری مسکراہٹ کے ساتھ یہ الفاظ سنائی دیے، ”اُس نے خط لکھ کر کہا تھا کہ مجھے داڑھی رکھ لینی چاہیے۔”
پھر مضبوط ہاتھوں نے گریس کو چھُوا، اور اوپر اٹھایا، اور دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔ اور پھر پیار سے نیچے کیا۔ وہ سب لوگوں کو بھول گئی، اُس نے اوپر دیکھا تو خوشی سے قہقہہ لگایا کیوں کہ صدر کے ناہموار چہرے پر اُسے داڑھی نظر آئی تھی۔
۔” گریس‘ دیکھ رہی ہو، نا، صرف تمہاری خاطر میں نے داڑھی رکھی۔”۔

گریس اس عظیم ، دراز قد اور باکمال انسان کو حیرت سے دیکھتی رہی۔ اس کی خواہش تھی ، وقت ہمیشہ کے لیے یہیں تھم ۔جائے۔ لِنکن نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پیار سے بولا۔
” امید ہے، ہم پھر ملیں گے، میری ننھی دوست۔”

تب وہ جان گئی, یہ لمحہ اڑان بھرنے والا ہے۔ لنکن نے ریلوے کی سیڑھیوں پر اُترنے میں اس کی مدد کی اور اڑان لڑکی اپنے ذی وقار باپ کے پاس واپس چلی گئی۔

اُسے ٹرین کی سیٹی اور انجن کا شور پھر سے سنائی دیا۔ لوگ دیر تک اپنے ہاتھ لہرا لہرا کر داد دیتے رہے، لیکن گریس کے دماغ میں فقط تین الفاظ گونج رہے تھے۔ ہاں ، ہاں ، بار بار وہی تین الفاظ ۔
۔” میری ننھی دوست”۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top