سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
’’بننا، ہونے سے بہتر ہے۔‘‘ (کیرول ڈویک)
ناکامی مستقل شناخت نہیں ہوتی۔
جو لوگ ناکامی کو مستقل شناخت نہیں بلکہ سیکھنے کے مختلف مراحل خیال کرتے ہیں، وہ بالآخر دوسروں سے زیادہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اصل کامیابی وہ ناکامی ہے جو ہمیں عجز سکھائے اور آگے بڑھنے کا مزید جذبہ پیدا کرے، اور ایسی کامیابی ایک طرح سے بدتر ناکامی ہے جو ہمیں فورا مل جائے اور ہمیں متکبر بنا دے۔ مسلسل ناکامیاں ہمارے کردار کو مضبوط بنا دیتی ہے۔
تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
نسیم نکولس طالب کہتا ہے؛ دنیا میں تین طرح کی چیزیں (یا رویے) ہیں۔
فریجائل (Fragile): ایسی چیز جو ذرا سا جھٹکا لگنے سے ٹوٹ جائے؛ جیسے گلاس
روبسٹ (Robust): وہ چیز جو جھٹکا لگنے پر ٹوٹتی تو نہیں مگر ویسے ہی رہتی ہے۔ بدلتی نہیں؛ جیسے پتھر یا لوہا
اینٹی فریجائل (Anti-Fragile): وہ چیز جو مشکل، دباو یا کسی جھٹکے سے ٹوٹنے کی بجائے پہلے سے زیادہ بہتر اور طاقتور بن جائے؛
جیسے انسانی مسلز، جو وزن اٹھانے سے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
اور میٹھے پانی میں پایا جانے والا چھوٹا سا جانور ’ہائیڈرا‘ جس کا اگر ایک سر کاٹ دیا جائے تو وہاں دو سر نئے نکل آتے ہیں۔
عموما ًخیال کیا جاتا ہے، ’فریجائل‘ کا الٹ ’روبسٹ‘ ہوتا ہے لیکن اس نظریے کے مطابق ’اینٹی فریجائل‘ وہ چیز ہے جو افراتفری اور مشکلات سے فائدہ اٹھاتی ہے اور مزید نکھر کر سامنے آتی ہے۔
جیسے پرندہ ہوا کے مخالف زور لگا کر پرواز کرتا ہے۔ ہوا جتنی تیز ہو، اس کی پرواز مزید بلند ہو جاتی ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی ’سید صادق حسین‘ نے یوں کی ہے؛
تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
نامرادانِ محبت کو حقارت سے نہ دیکھ
چارلس جے فاکس کہتا ہے،
’’یہ بہت اچھی بات کہ مجھے بتایا جائے، کسی نوجوان نے اپنی پہلی تقریر سے ہی شاندار کامیابی حاصل کر لی۔ ممکن ہے، وہ اپنی پہلی تقریر پرہی مطمئن ہو کر رُک جائے۔ لیکن مجھے وہ نوجوان دکھاو، جو پہلی بار ناکام ہوا ہو اور پھر بھی ڈٹا رہا؛ میں اس شخص پر شرط لگاوں گا کہ وہ ان لوگوں سے بہتر کرے گا جو پہلی کوشش میں کامیاب ہو گئے تھے۔‘‘
نامرادانِ محبت کو حقارت سے نہ دیکھ
یہ بڑے لوگ ہیں جینے کا ہنر جانتے ہیں
(شاعر: سلیم احمد)
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
(شاعر: ندا فاضلی)
برطانوی سیاستدان اور آزاد تجارت کے علمبردار رچرڈ کوبڈن جب پہلی بار مانچسٹر کے پلیٹ فارم پر اظہارِ خیال کے لیے آیا تو مکمل طور پر حواس باختہ ہو گیا، یہاں تک کہ چیئرمین کو اس کی وجہ سے سامعین سے معذرت کرنا پڑی۔ مگر کوبڈن اس ناکامی پر ٹوٹنے کی بجائے، خود کو نکھارنے میں مسلسل مگن رہا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ انگلستان کے ہر مفلس کی توانا آواز بن کے ابھرا اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم رہا جب تک انہیں سستی روٹی نہیں مل گئی۔
لوئیزا مے الکوٹ کو اس کے والدین نے اس کا وہ مسودہ تھمایا جسے مشہورِ زمانہ میگزین ’اٹلانٹک‘ کے ایڈیٹر مسٹر فیلڈز نے اس تحریری پیغام کے ساتھ اپنے میگزین میں چھاپنے سے انکار کر دیا تھا؛
’’لوئیزا سے کہو، وہ اپنی تدریس پر توجہ دے۔ وہ کبھی ایک کامیاب لکھاری نہیں بن سکتی۔‘‘
لوئیزا نے جواب دیا،
’’انہیں کہہ دیں، میں بطور لکھاری ضرور کامیاب ہوں گی اور ایک دن میں ’اٹلانٹک کے لیے ہی لکھوں گی۔‘‘
اور پھر چشم فلک نے وہ وقت بھی دیکھا، جب اس نے اپنے زورِ قلم سے دو لاکھ ڈالرز کمائے۔
وہ اپنی ڈائری میں لکھتی ہے؛
’’بیس برس قبل میں نے عزم کیا تھا، اگرممکن ہوا تو میں اپنے خاندان کو (مالی طور پر) خود مختار بناوں گی۔ چالیس برس کی عمر میں یہ مقصد پورا ہو گیا۔ تمام قرض ادا کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی جن کی قانونی مدت ختم ہو چکی تھی۔ اور اب ہمارے پاس آرام دہ زندگی بسر کرنے کے لیے کافی کچھ ہے۔ شاید اس کی قیمت مجھے اپنی صحت دے کر چکانی پڑی۔‘‘
1889 میں، ’سَین فرانسِسکو اِگزامِینَر‘ اخبار نے مایہ انگریز ناول نگار، افسانہ نویس، شاعر اور صحافی ’رَڈیارڈ کِپلنگ‘ کو یہ کہہ کر اس کی تحریر چھاپنے سے انکارکر دیا،
’’مسٹر کِپلنگ، ہماری معذرت قبول کیجیے کیونکہ آپ کو انگریزی زبان میں ذرا بھی مہارت حاصل نہیں ہے۔‘‘
اور پھر یہی وہ کپلنگ تھا، جسے 1907 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا تو اس کی عمر محض 42 برس تھی اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا کم عمر ترین ادیب تھا۔
برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر
یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کلاہ
(شاعر: علامہ اقبال)
’’ہم خود کو انسان کیوں کہیں، اگر ہر جگہ اور ہر میدان میں کامیاب نہ ہو سکیں؟‘‘ (مِیرابیو)
🌹 Sharing is Caring 🌹