تو کار زمیں را نکو ساختی
کہ با آسماں نیز پرداختی
(شیخ سعدی)
کیا تُو نے زمین کا کام سنوار لِیا ہے
جو آسمان کی طرف پرواز کر رہا ہے؟
کہیں نہ جانے والا راستہ بھی
خود شناسی تک لے جاتا ہے۔

چراغِ برقِ تحقیقے، نمی باشد در ایں وادی
سیاہی کرد ایں جا، گر ہمہ خورشید پیدا شُد
(عبدالقادر بیدل دہلوی)
جب تحقیق و جستجو کا چراغ اس وادی میں موجود نہیں ہے تو، چاہے کتنے ہی سورج کیوں نہ نکل آئیں، تاریکی ختم نہیں ہو سکتی۔

تُجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
اگر آپ کو نیا آئیڈیا چاہیے، تو کوئی پرانی کتاب پڑھیں۔


ایک بار، آئن سٹائن کے ایک مہمان نے آئن سٹائن سے درخواست کی، وہ اس کی لیبارٹری دیکھنا چاہتا ہے۔
آئن سٹائن مسکرایا؛ اسے اپنا فاونٹین پین دکھایا اور پھر اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔
جاگو، پیاری تِتلی
بہت دیر ہو چکی، ابھی مِیلوں دُور تک سفر
ہم دونوں کو ایک ساتھ طے کرنا ہے
(ماٹسو باشو)

ہر دن ایک سفر ہے اور سفر ہی گھر ہے۔
(ماٹسو باشو)
آپ کی زِندگی میں دو دِن سب سے زیادہ اہم ہیں؛ پہلا وہ، جب آپ پیدا ہوئے، اور دوسرا وہ، جِس دِن آپ کو (اپنے پیدا ہونے کا) مقصدمل گیا۔“
(مارک ٹوئن)

آج آپ کی بقیہ زندگی کا پہلا دن ہے۔