دیوان غالب مع شرح (از نظم طباطبائی) (ردیف: الف) ⬇️ نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا 🖊️ جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہ 🖊️ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار 🖊️ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا 🖊️ دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا 🖊️ شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا 🖊️ دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا 🖊️ شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا 🖊️ دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا 🖊️ ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا 🖊️ نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا 🖊️ سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی 🖊️ محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا 🖊️ بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا 🖊️ شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا 🖊️ نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا 🖊️ ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب 🖊️ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 🖊️ شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا 🖊️ دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا 🖊️ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا 🖊️ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا 🖊️ در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا 🖊️ اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں 🖊️ پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا 🖊️ گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا 🖊️ درد منت کش دوا نہ ہوا 🖊️ گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا 🖊️ قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا 🖊️ جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا 🖊️ میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں 🖊️ گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا 🖊️ نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا 🖊️ یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا 🖊️ وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا 🖊️ پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا 🖊️ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا 🖊️ لب خشک در تشنگی مردگاں کا 🖊️ تو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا 🖊️ شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا 🖊️ آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے 🖊️ عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا 🖊️ رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف 🖊️ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا 🖊️ سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے 🖊️ غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں 🖊️ جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا 🖊️ لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی 🖊️ عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا 🖊️ 🌹 Sharing is Caring 🌹 Go Back Poetry (Urdu) Home (Urdu-Nastaleeq) 📚 Read Motivational Blogs