بصیرت کے بغیر طاقت تباہی ہے۔

’’علم اور طاقت کا درست استعمال ہی بصیرت کا جوہر ہے۔
(چارلس سپرجن)




دل نے ڈالا تھا درمیاں ‘جن’ کو

ایک دن ایک تنہا ماہی گیر نے سمندر میں جال ڈالا۔ اس کے ہاتھ پیتل کی ایک بوتل لگی، جس کا منہ ڈھکن سے بند تھا اور اس پر مہرِ سلیمانی ثبت تھی۔ ماہی گیر اس راز سے بے خبر تھا کہ بوتل میں ایک خطرناک جن قید ہے جسے اس لیے قید کیا گیا تھا کہ انسان اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔

ماہی گیرنے سمجھا؛ بوتل میں شاید کوئی قیمتی چیز ہو گی، اس لیے اس نے ڈھکن کھول دیا۔ بوتل سے دھواں سا اٹھا اور ایک دیوہیکل جن نمودار ہوا۔ جن نے زور دار قہقہہ لگایا اور دھاڑا، ’’میں بغاوت کی وجہ سے، ہزاروں سال سے اس بوتل میں قید تھا اور بالآخر آزاد ہو گیا ہوں. اب میں تمہیں ہلاک کر دوں گا۔‘‘

بے چارہ ماہی گیر پہلے تو خوف زدہ ہو گیا، پھر بڑی مشکل سے اپنے اوسان پر قابو پاتے ہوئے کچھ سوچ کر بولا، ’’مجھے تمہاری بات پر بالکل یقین نہیں آ رہا۔ تم اس چھوٹی سی بوتل میں کیسے سما سکتے ہو؟‘‘
جب جن اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے دوبارہ بوتل میں گیا، ماہی گیر نے فوراً ڈھکن اٹھایا اور بوتل کا منہ بند کر دیا پھر اسے پوری قوت سے سمندر میں پھینک دیا۔‘‘

برسوں بعد، اس مقام پر اسی ماہی گیر کے پوتے نے سمندر میں جال ڈالا اور وہی بوتل اس کے ہاتھ آ گئی۔ وہ اسے کھولنے ہی والا تھا کہ اسے اپنے باپ دادا کی نصیحت یاد آ گئی؛
’’انسان صرف وہی چیز درست استعمال کر سکتا ہے، جسے استعمال کرنے کا علم اس نے سیکھا ہو۔‘‘
یہ سوچ کر اس نے بوتل ایک غار میں چھپا دی اور مشورہ لینے کے لیے کسی دانا شخص کے پاس حاضر ہوا۔ دانا شخص نے مشورہ دیا؛ وہ جن سے دولت اور طاقت مانگنے کی بجائے علم اور بصیرت مانگے تا کہ سچ اورجھوٹ میں تمیز کر سکے۔ کیونکہ بصیرت کے بغیر نعمتیں بھی مصیبت بن جاتی ہیں۔

نوجوان واپس آیا اور جن سے اس کی طاقت کا کوئی ثبوت مانا۔ جن نے دعوی کیا؛ وہ بوتل کی قید سے نکلنے کے سوا، کس بھی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ نوجوان نے جن کو آزاد کرنے سے پہلے، اس سے اپنی فکری الجھن کی حقیقت کے ادراک کی صلاحیت مانگی۔ جن نے اپنی ماورائی طاقت سے اسے حقیقت کا ادراک عطا کردیا۔
نوجوان کو اپنے آباء کی نصیحت کی حقیقت اور جن کے راز کا علم ہو گیا اور اسکا یہ شک بھی یقین میں بدل گیا؛

کیا پتہ خواہشیں نہ پوری ہوں
جن نکلتے ہی ہم کو کھا جائے

(شاعر: فیضان ہاشمی)

وہ جان گیا؛ اب اسے جن کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ مادی خزانے اور جنوں کے کرشمے محض ایک سراب ہیں۔

اس نے بھی اپنے دادا کی طرح بوتل سمندر میں پھینک دی اور اپنی زندگی حقیقی علم کی ترویج کے لیے وقف کردی۔ وہ عمر بھر لوگوں کو تعلیم دیتا رہا؛
جو چیز انسان نے سیکھ کر استعمال نہ کی ہو، اس کی طاقت اس کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ، لوگوں نے اس کی باتوں کا مفہوم کھو دیا۔ اس کی تعلیمات کی نقالی کرتے کرتے ایک نیا مذہب سا بن گیا، جس میں پیتل کی بوتلیں علامتیں بن گئیں اور لوگ فضول رسموں میں الجھ گئے۔
جبکہ حقیقت یہ تھی؛ پیتل کی وہ بوتل آج بھی وہ بوتل سمندر کی تہوں میں موجود تھی اور اس کے اندر جن گہری نیند سو ررہا تھا۔ (الف لیلہ )




بصیرت کے بغیر طاقت تباہی ہے۔

حکمت اور بصیرت کے بغیر طاقت ایک فتنہ ہے۔ اسی لیے ایلڈوس ہکسلے نے ہمیں خبردار کیا تھا؛ ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں پیچھے کی طرف جانے کے لیے زیادہ موثر ذرائع فراہم کر دیئے ہیں۔ ہمارے پاس معلومات کی بہتات تو ہے مگر بصیرت کی شدید کمی ہے۔

کسی بڑی قوت کے حصول سے پہلے اپنے اندر اسے سنبھالنے کا ظرف پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بقول افلاطون؛ اگر انسان کے پاس عدل اور عقل نہیں تو اسے کائنات کے اسرار بتانا اسے پاگل کر دینے کے مترادف ہے۔
آپ جن کو تبھی حاضر کریں اگر آپ کو اسے واپس بھیجنے کا منتر بھی آتا ہے، بصورت دیگر بوتل سے نکلے اس جن کا پہلا لقمہ آپ ہی ہوں گے۔




جن’ پہ تکیہ نہیں، ‘جن’ سے آزادی ضروری ہے۔

اگر ’درایت ‘ کو چھوڑ کر محض ’روایت‘ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان حقیقت سے دور ہو کر خرافات میں گم ہو جاتا ہے۔ کسی دانا نے کہا تھا؛ رسم و رواج اس سچائی کا خشک چھلکا ہے، جو عرصہ دراز سے رخصت ہو چکی ہو۔
ماہی گیر کے پیروں کاروں نے سچائی کا سفر ترک کر کے ’بوتل ‘ کو ہی منزل مان لیا تھا جبکہ حکمت اس حقیقت سے آشنائی ہے کہ بصیرت کے ساتھ سچائی کا سفر جاری رکھنا ہی، منزل ہے۔

اور………؛

حقیقی آزادی جن کو غلام بنانے میں نہیں بلکہ اس کی ضرورت سے آزاد ہونے میں ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top