رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک؟
’’دریا ہمارے اندر ہے، لیکن سمندر ہمارے چاروں طرف ہے۔‘‘ (ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ)
ہماری ’پہچان‘ ’کدو‘ نہیں ہے۔
روایت ہے؛ ایک بیوقوف شخص کسی بڑے شہر میں آیا تو گلیوں اور چوراہوں میں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر وہ بوکھلا گیا۔ اسے اندیشہ ہوا، اگر وہ سو گیا اور پھر بیدار ہوا تو ان بے شمار لوگوں کے درمیان اپنی پہچان نہیں کر پائے گا۔ چنانچہ اس نے اپنی شناخت کے لیے اپنے پاوں کے ساتھ ایک کدو باندھ لیا۔
ایک شرارتی شخص نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس کے سونے کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ بیوقوف سو گیا، تو اس شرارتی شخص نے چپکے سے وہ کدو اس کے پاوں سے کھول کر اپنے پاوں سے باندھ لیا اورخود بھی سرائے کے صحن میں سو گیا۔ جب بیوقوف کی آنکھ کھلی تو اس نے سب سے پہلے وہی کدو کسی دوسرے کے پاوں سے بندھا دیکھا۔ پہلے تو اس نے خیال کیا، شاید یہ دوسرا شخص ہی، وہ ’خود‘ ہے۔ پھر وہ دوسرے شخص پر ٹوٹ پڑا اور چلایا، ’’ اگر ’تم‘ ہی ’میں‘ ہوں، تو پھر خدا کے لیے یہ بتاو، میں کون ہوں اور کہاں ہوں؟ (ملانصرالدین کے لطائف)
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک؟
جامی کہتے ہیں، بیداری کی کئی اقسام ہیں مگر درست بیداری صرف ایک ہے۔ انسان نیند میں ہے مگر اسے جاگنا بھی اسی انداز میں چاہیے جو حق کے موافق ہو۔
محض آنکھ کھولنا بیداری نہیں بلکہ یہ ادراک کے اس درجے پر پہنچنا ہے جہاں آپ کی پہچان خارجی اشیا کی محتاج نہ رہے۔ اگر انسان کی پہچان کسی خارجی توثیق (جیسے کدو باندھنے) کی محتاج ہے تو وہ صحیح طور پر بیدار نہیں۔ بیداری اس ’کدو‘ کے توڑنے کا عمل ہے جسے ہم نے اپنی’ انا‘ کے ساتھ باندھا ہوتا ہے۔
بیداری اس خواب کا خاتمہ ہے کہ تم وہ ’کردار‘ ہو جو تم ادا کر رہے ہو۔ (ایکارٹ ٹولے)
ہماری اصل پہچان اس دنیا میں ہمارے بدلتے ہوئے کردار نہیں ہیں۔ اگرچہ ہمارے ان کرداروں کی بھی اپنی اہمیت ہے لیکن اگر یہی بدلتے ہوئے کردار ’میں‘ بن جائیں، تو ہماری حقیقی پہچان ان کرداروں کی گرد میں کہیں جم جاتی ہے۔ ہم دراصل ’وہ‘ ہیں جو ان تمام کرداروں کے پس منظر میں موجود ہیں۔ بیداری اپنے پاوں کے ساتھ بندھا کدو تلاش کرنے کی بجائے خودآگاہی ہے۔ اگر انسان آنکھ کھول لے مگر ’کنڈیشننگ‘ نہ توڑے تو وہ جاگ کر بھی سویا رہتا ہے۔
’ذات محض واہموں کا ایک مجموعہ ہے؛ ان تہوں کو ایک ایک کر کے ہٹاتے جاو تو ’کچھ نہیں‘ حاصل ہو گا، مگر یہی ’کچھ نہ ہونا‘ ہی اصل میں ’سب کچھ‘ ہے۔‘ (بودھا)
بیوقوف شخص کی ’سیلف‘ اوہام سے جڑی ہوئی ہے۔ اس نے اپنی پہچان ایک ’کدو‘ سے جوڑ لی تھی۔ ہمارے دنیاوی رتبے بھی ’کدو‘ کی طرح ہیں، جنہیں ہم اپنی پہچان سمجھ بیٹھتے ہیں، جو ’وہم‘ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہمارے ’کدو‘ چھن جانے سے بھی ہماری اپنی اصل شناخت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ پھر ہم اس ’خلا‘ سے ڈر جاتے ہیں جو ’کدو‘ کے ہٹ جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان اکیلے بیٹھنے سے، خاموشی سے اور بغیر کسی شناخت کے رہنے سے ڈرتا ہے کیونکہ تب اسے اپنے اندر ’کچھ نہ ہونے‘ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ’کچھ نہ ہونے‘ کا یہ ’صدمہ‘ قبول کر لیں، تو ہم مصنوعی شناخت کے سراب سے نکل کر اس کائنات کی وسعت سے جُڑ جاتے ہیں۔
غزالی کہتے ہیں، ’روح ایک آئینے کی مانند ہے؛ اگر اس پر دنیاوی شناختوں کی گرد جم جائے تو یہ فریب نظر کے سوا کچھ منعکس نہیں کرتی۔‘‘
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
تیرا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے
(شاعر: علامہ اقبال)
🌹 Sharing is Caring 🌹