کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے
جو اپنے عیب دیکھتا ہے، وہ دوسروں کے عیبوں سے بے خبر رہتا ہے- (فریدالدین عطار)
انتخاب: فضیلت یا ضرورت؟
ایک درویش استاد کا مرید، جس کے استاد کی شہرت پورے عالم اسلام میں پھیلی ہوئی تھی، ایک دن خراسان کے عظیم شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فخر سے کہنے لگا؛
’’مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ میرے مرشد نے مجھے بطور شاگرد قبول کیا، حالانکہ روز سینکڑوں افراد ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور واپس بھیج دیئے جاتے ہیں۔‘‘
عظیم شیخ نے جواب دیا؛
’’برادرِ عزیز! میں تمہاری تعلیم کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ایک بنیادی بات بتاتا ہوں۔ تمہیں اس لیے نہیں چُنا گیا کہ تم دوسروں سے زیادہ باکمال تھے، بلکہ اس لیے کہ تمہیں تعلیم و تربیت کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔‘‘ (ادریس شاہ)
کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے
کیریکیگارڈ کہتا ہے، ’دھوکا کھانے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ اس پر یقین کر لیا جائے جو سچ نہیں ہے؛ دوسرا یہ کہ اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا جائے جو سچ ہے۔ شاگرد اپنی برتری کے جھوٹے زعم میں مبتلا تھا، جب کہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا روحانی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شیخ نے اس کی انا توڑ کر اسے عاجزی کی طرف مائل کیا، کیونکہ ’صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ‘۔
جب انسان احساس برتری کا شکار ہوتا ہے، اس کے اندر سیکھنے کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ شاگرد خودپسندی اور نرگسیت کا مارا تھا اور اپنے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ شیخ نے اسے حقیقت کی طرف موڑا کہ انتخاب ضرورت پر مبنی تھا نہ کہ فضیلت پر۔
علم کے سفر میں انا پرستی سب سے بڑا عیب ہے۔ شیخ نے شاگرد کو اس کے اس عیب سے آگاہ کر کے اس کی تحقیر نہیں کی، بلکہ اصلاح کی۔
کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن
کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے
(شاعر: اظہر عنایتی)
خودپسندی اور خوداعتمادی میں بہت فرق ہے۔ خود پر یقین رکھنا اور بات ہے، اور باقی سب کو پست و حقیر خیال کرنا کچھ اور۔
اپنی علمیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے اپنے اندر جھانکنا اور اپنی ’کمی‘ پہچاننا انسان کے لیے علم کے مزید رستے کھول دیتا ہے۔
’’عجز یہ نہیں کہ آپ خود کو کم تر سمجھیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے بارے میں کم سے کم سوچیں۔‘‘ (سی ۔ ایس۔ لیوس)