یہ سب ہم پر منحصر ہے۔


لیو بسکالیا کا قول ہے؛
ہم اکثر لمس، مسکراہٹ، ایک مہربان لفظ، سننے والے کان، ایک دیانتدار تعریف، یا دیکھ بھال کے چھوٹے سے عمل کی طاقت کو کم تر خیال کرتے ہیں، حالانکہ ان سب میں کسی کی بھی زندگی کو یکسر بدل ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کائنات میں ہرچھوٹی شے کسی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ تغیر کی ابتدا ایک چھوٹے لیکن قابل عمل اقدام سے ہوتا ہے؛ ہزاروں میلوں کی مسافت ایک قدم سے ہی شروع ہوتی ہے۔ تمام چھوٹے اعمال تاریکی اور مایوسی جیسی کیفیتوں پر فتح پانے کی بظاہر ننھی سی مگر امید کی طاقتورکرنیں ہیں جو اپنے اندر بڑے بڑے معجزے رونما کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ ہارورڈ زِن کی نظر میں، چھوٹے چھوٹے اعمال جب لاکھوں لوگوں کے ذریعے ضرب ہوتے ہیں تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔

جس طرح خوف متعدی ہوتا ہے، بہادری بھی نہ صرف متعدی ہے بلکہ یہ اس خوف کے تسلسل میں دراڑ ڈالتی ہے۔ بارش کا پہلا قطرہ بننے کی ہمت باقی قطروں میں بھی تحریک پیدا کرتی ہے اور اس طرح اجتماعی جرات کا قابل تقلید ماحول بن جاتا ہے۔

اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے اندر کی مایوسی سے پورا ماحول تاریکی میں بدلتے ہیں یا پھر ’دی لاسٹ لِیف‘ کے بوڑھے فنکار بہرمین کی مانند خود تاریکی کی نذر ہو کر بھی شدید طوفانی رات میں دوسروں کو مایوسیوں کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے امید کے آخری پتے کو دیوار پر پینٹ کر جاتے ہیں۔ یہ سب ہم پر منحصر ہے۔



یہ تم پر منحصر ہے۔

ایک نغمہ، کِسی بھی لمحے کو روشن کر سکتا ہے۔
ایک پھُول، خواب کو جگا سکتا ہے
ایک درخت سے، جنگل کی شروعات ہو سکتی ہے
ایک پرندہ، بہار کا پیام رساں بن سکتا ہے
ایک مسکراہٹ سے، دوستی کا آغاز ہو سکتا ہے
ایک تالی، کسی ذی نفس کو بلند کر سکتی ہے
ایک ستارا، سمندر میں کسی جہاز کو راستہ دکھا سکتا ہے
ایک ووٹ، قوم کا مقدر بدل سکتا ہے
سورج کی ایک کرن، کمرے کو روشن کر دیتی ہے
ایک موم بتی، تاریکی کا صفایا کر دیتی ہے
ایک قہقہہ، اداسی پر فتح پا لے گا
ایک قدم سے، ہر سفر کاآغاز ہو جاتا ہے
ایک لفظ سے، ہر دعا کا آغاز ہو جاتا ہے
ایک امید، ہماری روحوں کو بیدار کر دے گی
ایک لمس، محبت کا احساس دلا سکتا ہے
ایک آواز، دانش کی بات کر سکتی ہے
ایک دِل، حقیقت کو پا سکتا ہے
ایک زندگی سے بھی فرق پڑ سکتا ہے
تُم نے غور کیا، یہ سب تُم پر منحصر ہے

(شاعر: نامعلوم)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top