یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
ایک روز، ایک چیلے نے درویش صفت گرو کے سامنے بڑے ادب سے جھک کرعرض کی؛ وہ اس کا شاگرد بننے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
گرو نے اس کے کان میں ایک رُوحانی منتر پھونکا اور سختی سے تاکید کی کہ یہ امانت کسی اور پر ظاہر نہ کرے۔
”چیلے نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا،
’’ اور اگر میں نے یہ راز فاش کر دیا تو کیا ہو گا؟‘‘
گرُو نے قدرے سختی سے جواب دیا،
’’تم جسے یہ منتر سکھا دو گے وہ جہالت کی بندشوں اور اذیت کی زنجیروں سے آزاد ہو جائے گا مگر تُم پھر میری شاگردی کے قابل نہیں رہو گے اور تُم پر عذاب بھی نازل ہو گا۔ ”
گرو سے منتر سنتے ہی وہ چیلا بازار کی طرف بھاگا، اپنے گرد ایک ہجوم کو اکٹھا کیا اور بغیر کسی خوف کے سب کے سامنے وہ منتر بلند آواز میں دہرایا۔
دوسرے شاگردوں نے گرو کو یہ سارا ماجرا سنایا اور مطالبہ کِیا کہ اُس نافرمان شاگرد کو اس گستاخی پر درس گاہ سے باہر نکالا جائے۔
گرُو نے ایک دُور رس مسکراہٹ سے جواب دیا،
” میں تو اسے پہلے ہی یہاں سے نکال چکا ہوں۔ اسے اب یہاں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو کچھ بھی میرے پاس سکھا نے کو تھا وہ اس نے سیکھ لیا ہے۔ اب اسے سکھانے کے لیے میرے پاس مزید کچھ نہیں ہے۔ اس کے عمل نے ثابت کر دیا کہ وہ خود ایک گرو بن چکا ہے۔
نیکی کی جرات انسان کے اندر خوابیدہ انسانیت کی بیداری ہے۔ جب دوسروں کی بھلائی مقصود ہو تو انسان اپنی ذات کے مفاد کی نفی کرکے معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے۔
ہزار اندیشوں میں بھی زباں کو دل کی رفیق بنا کر دوسروں کی بھلائی کے لیے آگے بڑھنا ہی حقیقی قلندروں کا طریق ہے۔
اور یہ جرات و بہادری کا وہ سبق ہے، جسے یاد کر کے پھر کسی مکتب کی ضرورت بھلا کہاں رہتی ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹