✍️ یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
تریاکی قدیم ہوں دود چراغ کا
سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دل
ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
داغ سے زخم اگر مراد لیں تو فتیلہ وہ بتی ہے جو زخم میں رکھتے ہیں اور اگر داغ سے چراغ مراد لیں تو فتیلہ اُس کے لئے بھی باعثِ فروغ ہوتا ہے، پہلی صورت میں کثرتِ نشوونما کا اظہار ہے کہ جادہ ایسا باریک بڑھ گیا جیسے رگِ لالہ ہوتی ہے اور داغِ لالہ کی تخصیص اس لئے ہے کہ زیادتی و کثرتِ گلہائے رنگیں پر اور شدتِ خضرہ سبزہ زار پر دلالت کرے اور دوسری صورت میں یہ معنی ہیں کہ جادہ کو لالہ کے ساتھ وہ مناسبت ہے جو فتیلہ و شعلہ میں پیدا ہے۔
بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
یعنی آشوبِ ہوشیاری کے برداشت کرنے سے حوصلہ کو عجز ہے، اُس عجز نے ہوشیاری و آگہی پر خطِ ایاغ کھینچ دیا ہے، یعنی صفحہِ خاطر پر سے اسے کاٹ دیا ہے، حاصل یہ کہ ایاغ پیکرِ ہوشیاری کو محو کر دیتا ہے، جامِ جمشید میں خطوط تھے اس سبب سے شعرا آج تک ہر جامِ شراب میں خط ہونا لازم سمجھتے ہیں اور خطِ جام کے تشبیہات اور مضامین بہت کثرت سے کہے ہیں۔
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
یعنی بلبل کو خللِ دماغ سمجھ کر گل اُس پر ہنستے ہیں، کاروبار سے مراد اُس کی حرکات ہیں مصنف نے لفظِ ‘حال زار’ کو چھوڑ کر کاروبار اس وجہ سے کہا کہ کاروبار بمعنی زراعت وبار بمعنی ثمر بھی ہے اور یہ گل کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
تریاکی قدیم ہوں دود چراغ کا
دود بمعنی فکر اور چراغ استعارہ ہے کلامِ روشن سے۔
سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
یعنی جب ہم آزاد ہوتے ہیں دل پھر گرفتار کروا دیتا ہے۔
بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
چشم میکدہ اور مے خونِ دل ہے اور چشم میں خونِ دل نہ ہونے سے موجِ نگاہ غبار بن گئی ہے، گویا کہ میکدہ مے کی جستجو میں خراب وغبار آلود ہو رہا ہے۔
باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دل
ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا
پہلے مصرع میں ‘سے’ ہے ‘محذوف’ ہے، مطلب یہ ہے کہ جب شگفتگی باغ سے تجھے نشاط پیدا ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ ابرِ بہار جس نے ساغر کو شرابِ رنگ و بو سے لبریز کر دیا ہے کس کے دماغ کا خم کدہ ہوا۔ دوسرے مصرع میں سے جو ہوا محذوف یعنی ابرِ بہار بھی تیرے ہی دماغ میں نشہ پیدا کرنے کے لئے ایک خم کدہ ہے یہ تجنیسِ بساط ونشاطِ لفظیہ میں سے ہے۔
جوش بہار کلفت نظارہ ہے اسدؔ
ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
🌹 Sharing is Caring 🌹