ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
’’جو راستہ بتایا جا سکے، وہ ابدی راستہ نہیں۔’’ (لاوتسو)
وہ درویش جو بادشاہ بنا
کہتے ہیں؛ ایک درویش تھا، جس نے حقیقت کی جھلک دیکھ لی تھی۔ مگر اس کا خیال تھا؛ جب تک وہ دنیاوی اعتبار سے صاحبِ اختیار نہیں بن جاتا، لوگ اس کی بات سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ اس نے اپنی تمام تر توجہ اور قوت ظاہری اقتدار کے حصول پر مرکوز کر دی۔
وقت گزرنے کے ساتھ، وہ بادشاہ بن ہی گیا۔
کچھ عرصہ حکمرانی کے بعد اسے یہ احساس ہونے لگا؛ لوگ اس کے طریقہ تعلیم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اس کی بات سنتے ضرور تھے لیکن عمل صرف انعام کی امید یا سزا کے خوف کی بنا پر کرتے تھے۔
اس درویش بادشاہ کے پاس تعلیم دینے کے لیے کوئی موثر ذریعہ نہ تھا۔
وہ ذریعہ اسے اس وقت تک نہ ملا، جب تک وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں نہ پہنچ گیا۔
وہ اجنبی جو سبز پوش تھا
ایک دن، شکار کی تلاش میں نکلا وہ بوڑھا بادشاہ بالآخر تھک کر آرام کی غرض سے بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سبز پوش اجنبی نمودار ہوا۔ اس نے بادشاہ کو سلام کیا اور ایک قصہ سنایا۔
یہ کہانی تھی؛ کتاب کی کہانی
اور پھر اس نے داستان کا آغاز یوں کیا؛
توقع کے برعکس
ایک دانشور؛ جو اپنے زمانے کا عجوبہ تھا، اپنے شاگردوں کو حکمت کے بظاہر نہ ختم ہونے والے خزانے سے تعلیم دیا کرتا تھا۔
وہ اپنے تمام علم کا منبع اس ضخیم کتاب کو قرار دیتا تھا، جو اس کے حجرے میں ایک بلند مقام پر رکھی ہوئی تھی۔
لیکن وہ کسی کو بھی کتاب کھولنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
جب وہ وفات پا گیا، تو اس کے پیروکار، جو خود کو اس کتاب کا وارث خیال کرتے تھے، بے تاب ہو کر کتاب کھولنے دوڑے، تا کہ اس کے اندر پوشیدہ رازوں کے مالک بن سکیں۔
مگر کتاب کھولتے ہی ان کی حیرت، پریشانی اور مایوسی کی انتہا نہ رہی، جب یہ انکشاف ہوا؛ اس ضخیم کتاب میں صرف ایک ہی صفحے پر تحریر تھی؛
اور جب انہوں نے اس ایک جملے کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی تو ان کی حیرانی جھنجھلاہٹ میں بدلنے لگی۔
اس صفحے پر لکھا تھا؛
’’جب تم ظرف (یعنی برتن) اور مظروف (یعنی برتن میں موجود شے) کے درمیان فرق جان لو گے، تب تمہیں علم حاصل ہو جائے گا۔‘‘
علماء کی رائے
دانشور کے جانشین وہ کتاب اس وقت کے نامور علماء کے پاس لے گئے اور کہا؛
’’ہمارے پاس یہ کتاب اس عظیم دانشور کی ہے جو اپنے عہد کا یگانہ تھا مگر اب دنیا میں نہیں رہا اور اپنے پیچھے یہ واحد سرمایہ چھوڑ گیا، جس کی تفہیم سے ہم قاصر ہیں۔‘‘
علماء پہلے تو اتنی ضخیم کتاب اور صاحبِ کتاب کا نام دیکھ کر بہت خوش ہوئے، جس کی عقیدت کا دم ایک زمانہ بھرتا تھا۔
پھر انہوں نے دعوی کیا؛
’’بے شک ہم آپ کو اس کی اصل تفسیر بتائیں گے۔‘‘
مگر جب انہوں نے دیکھا؛ کتاب تقریباً خالی ہے اور جو چند الفاظ درج ہیں ان کا کوئی مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا، تو پہلے وہ طنزیہ مسکرائے اور پھر غصے میں ان شاگردوں پر چیخنے لگے اور انہیں وہاں سے بھگا دیا۔
انہیں یقین تھا، وہ کسی مذاق کا نشانہ بنے ہیں۔
وہ ایسا دور تھا جب علماء کی سوچ محدود اور لفظی معانی تک مقید تھی۔ وہ ایسی کتاب کا تصور نہیں کر سکتے تھے جو کچھ ’کر‘ سکتی ہو، وہ تو صرف ایسی کتاب سے آشنا تھے، جو صرف کچھ ’کہتی‘ ہو۔
درویش کی تشریح
شکستہ دل شاگرد ایک سرائے میں جا ٹھہرے، جہاں ان کی ملاقات ایک درویش سے ہوئی۔ انہوں نے اسے اپنی پریشانی بتائی۔
درویش نے پوچھا؛
’’آپ کو ان علماء سے کیا سبق ملا؟‘‘
مسافروں نے کہا؛
’’کچھ بھی نہیں۔ وہ ہمیں کچھ نہ بتا سکے۔‘‘
درویش نے مسکراتے ہوئے کہا؛
’’اس کے برعکس، انہوں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا؛ اس کتاب کو اس طرح نہیں سمجھا جا سکتا جیسا آپ یا وہ گمان کر رہے تھے۔ آپ شاید سمجھ رہے ہوں کہ ان میں گہرائی کی کمی تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ میں ہی سمجھ بوجھ کی کمی تھی۔ یہ کتاب خود اس واقعے کے ذریعے آپ کو کچھ سکھا رہی تھی، جب کہ آپ خوابِ غفلت میں تھے۔‘‘
مگر شاگردوں کے لیے یہ نکتہ بہت باریک تھا۔ اور اس کتاب کا راز صرف اسی ایک شخص نے محفوظ رکھا جو اس سرائے کا ایک عام سا مسافر تھا۔ جس نے یہ ساری گفتگو سن لی تھی، جو میں نے ابھی آپ کو سنائی ہے، اے بادشاہ اور درویش!‘‘
یہ کہہ کر وہ سبز پوش اجنبی اٹھا اور چل دیا۔
کتاب کی حفاظت اور اس کی چوری
بادشاہ اس اجنبی کی داستان سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے حکم دیا؛ یہ قصہ سنہری حروف میں لکھ کر ایک بڑی کتاب کی صورت میں محفوظ کیا جائے۔
اسے شاہی خزانے کے ایک طاق میں رکھ دیا گیا اور دن رات مسلح محافظ اس کی حفاظت کرنے لگے۔
کچھ عرصے بعد بوڑھا بادشاہ انتقال کر گیا اور ایک وحشی فاتح نے اس کی سلطنت کو تس نہس کر دیا۔ خزانہ لوٹتے وقت اس کی نظر ایک اہم مقام پر رکھی کتاب پر پڑی تو اس نے سوچا،
’’یقیناً یہی کتاب اس ملک کی خوشحالی اور حکمت کا سرچشمہ ہو گی۔‘‘
اس نے بلند آواز میں کہا،
’’یہ کتاب اتارو اور ہماری زبان میں ترجمہ کر کے سناو۔‘‘
مگر وہ فاتح، اپنی تمام تر جسمانی طاقت کے باوجود، جاہل تھا۔ وہ کتاب کے الفاظ سے کوئی مطلب اخذ نہ کر سکا۔
مالی نے کتاب بچا لی
اس وحشی فاتح نے کتاب تلف کروا دی، مگر اس کے مترجم نے ( جس کا نام مالی تھا) اس کے مندرجات یاد رکھے۔ اسی کی کوششوں سے اس کتاب کی تعلیم آگے منتقل ہوئی۔
مالی نے ایک دکان کھول لی۔
اس نے ’کتاب الکتاب‘ (دی بُک آف دی بُک) کے نسخے دکھانے اور فروخت کے لیے رکھے، مگر وہ تب تک کسی کو کتاب کے اندر جھانکنے کی اجازت نہ دیتا، جب تک وہ مالی کو دو اشرفیاں ادا نہ کر دیتا۔
کچھ لوگوں نے کتاب سے سبق سیکھا اور پھر مزید تعلیم کے لیے مالی کے پاس بھی واپس آئے۔ اور کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے پیسے واپس مانگنے لگے، مگر مالی ہمیشہ یہی جواب دیتا؛
’’میں اس وقت تک آپ کے پیسے واپس نہیں کر سکتا، جب تک آپ کتاب سمیت وہ علم مجھے واپس نہ کر دو جو آپ نے اس ترجمے سے حاصل کیا۔‘‘
بعض لوگ، جو ظاہر کو باطن پر ترجیح دیتے تھے، مالی کو دھوکے باز کہنے لگے۔
مگر مالی ہنس کر یہ جواب دیتا؛
’’ آپ تو شروع سے ہی دھوکے بازوں کی تلاش میں تھے، اسی لیے آپ کو ہر شخص میں دھوکے باز ہی نظر آئے گا۔‘‘
یسوی نے اسے بارہ اشرفیوں میں خریدا
جب احمد یسوی طالب علم تھے، انہوں نے مالی سے اس کتاب کا ایک نسخہ دو اشرفیوں میں خریدا۔ اگلے روز وہ واپس آئے اور مالی کو دس اشرفیاں مزید دیتے ہوئے کہا؛
’’میں نے اس کتاب سے جو کچھ سیکھا ہے، اس کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ میرے پاس اور مزید رقم نہیں۔ میں اپنی ساری جمع پونچی آپ کی نذر کر رہا ہوں، اس اعتراف کے ساتھ کہ میرے نزدیک اس سبق کی قدرو قیمت میری کل کائنات کے برابر ہے۔‘‘
احمد یسوی نے اس کتاب کی تاریخ اور اس کے مندرجات کو دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک جلد میں مرتب کیا، جس کے سرورق پر لکھا تھا؛
’’اگر کتابوں کی ضخامت ہی ان کے مواد کی قدر کا تعین کرتی ہے، تو یقینا اس کتاب کو اس سے بھی ضخیم ہونا چاہیے تھا۔‘‘
اور یوں وسطی ایشیا کے مشائخِ عظام میں سے، احمد یسوی کے بعد سے، یہ داستان سات سو برس سے زائد عرصے سے نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔
ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
مایہ ناز مصنف اور دُور اندیش مفکر ادریس شاہ نے اس کتاب کو ’دی بُک آف دی بُک‘ کے نام سے شائع کروایا۔ ناقدین نے کتاب پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اڑھائی سو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں پندرہ سے بیس صفحات پر اوپر والی داستان درج تھی، باقی پورے صفحات خالی تھے۔
کچھ لوگوں نے کتاب واپس کرنے کی کوشش کی، جس طرح مالی سے لوگوں نے اپنی دو اشرفیاں واپس مانگی تھیں۔
ایسے لوگوں کو ادریس شاہ نے نہایت اطمینان سے یہ جواب دیا؛
’’ جن لوگوں کو غصہ آ رہا ہے، وہ دراصل اس ’مالی‘ کے گاہکوں کی طرح ہیں، جنہوں نے ظرف (برتن) تو خرید لیا مگر وہ مظروف ( برتن میں موجود شے) کو پہچاننے کی صلاحیت سے عاری تھے۔‘‘
جب تک ہم اشیاء کی ظاہری شکل سے بلند ہو کر ان کی اصل حقیقت کو نہیں پہچانتے، ہم سراب میں رہیں گے۔
یہ کتاب مروجہ ڈھانچوں کو توڑ کر ہمیں حیرت میں ڈالتی ہے اور ہم نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
ظرف کی اہمیت سے انکار نہیں؛ مظروف اپنے ظہور کے لیے ’ظرف ‘ کا محتاج ہوتا ہے، مگر ’ظرف‘ کی اپنی قدر و قیمت صرف ’مظروف‘ کے دم سے ہے۔
ہم نے رکھ لی ہے بچا کر ایک گہری خامشی
اس کتاب کے ’خالی صفحات‘ ایسی ’خاموشی‘ ہیں، جو شعلہ بن کر ہمیں ہمارے ’خالی پن‘ کے ’اندھیرے ‘ کا احساس دلاتے ہیں، تو ہم اپنے اندر کا اندھیرا دیکھ کر بھڑک جاتے ہیں۔
’’ وہ لوگ جو اس کتاب کو خالی پاتے ہیں، دراصل یہ ان کے اپنے ہی اندرونی خلا کا آئینہ ہے۔‘‘
( رابرٹ گریوز)
بہرحال اسی تاریکی سے ہمکنار ہو کر ہی ہم حقیقی روشنی کی جھلک پا سکتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں اپنے ذہن کے خلا کو اپنے خیالات سے بھرنے کی ترغیب دیتی ہے اور بیرونی معلومات کے بے ہنگم شور کی بجائے ہماری اندرونی بصیرت کو جِلا بخشتی ہے۔ اس کتاب میں ’خالی صفحات‘ کی ’خاموشی‘ ہمیں اس راز سے آشکار کرتی ہے۔
’’خاموشی خدا کی زبان ہے، باقی سب ناقص ترجمہ ہے۔ ‘‘ (مولانا رومی)
حقیقت تو یہ ہے؛ اگر ہم اپنے باطن کے ’خالی پن‘ کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں تو یہی ’خلا‘ ہماری نمو کا سب سے کارآمد وسیلہ بن سکتا ہے۔
’’ ہم مٹی سے برتن بناتے ہیں، مگر اس کے اندر کا خالی پن ہی اسے قابلِ استعمال بناتا ہے۔‘‘ (لاوزی)
کتاب میں ’خالی صفحات‘ محض ایک ’کمی‘ نہیں بلکہ ایک پُر اثر ’موجودگی‘ ہے۔
وہ قصہ جو لفظوں میں نہیں آیا، وہی تو ’اصل‘ قصہ ہے۔
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز
(شاعر: فیض احمد فیض)
جس روز دِل کی رمز مغنی سمجھ گیا
پوچھا گیا؛ ’’بانس موسیقی کیوں پیدا کرتا ہے؟‘‘
جواب ملا، ’’کیونکہ وہ اندر سے خالی ہے۔‘‘ (زین کوآن)
یعنی بانس اگر اندر سے خالی نہ ہوتا تو وہ کبھی بانسری نہ بن سکتا۔ اس کی عظمت اس کی مضبوطی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر موجود خلا بھی ہے۔ مگر بانسری کو بھی نغمہ سرائی کے لیے سوز بھری پھونک اور متحرک انگلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
آیا کہاں سے نالۂ نے میں سرودِ مے
اصل اس کی نے نواز کا دِل ہے یا چوبِ نے؟
(شاعر: علامہ اقبال)
’نے‘ میں ’سرودِ مے‘ پیدا کرنے کے لیے ’نے نواز کے دِل کا سوز بھی درکار ہے۔ ورنہ ’چوبِ نے‘ کا ’خلا‘ محض ’خلا‘ کے سوا کچھ نہیں ۔
اسی لیے؛
’’جب تم ظرف (یعنی برتن) اور مظروف (یعنی برتن میں موجود شے) کے درمیان فرق جان لو گے، تب تمہیں علم حاصل ہو جائے گا۔‘‘
یعنی؛
جس روز دِل کی رمز مغنی سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہے طے
(شاعر: علامہ اقبال)
روشنائی
آپ لکھنے کے لیے
کس رنگ کی روشنائی استعمال کرتے ہیں؟
عام طور پر
نیلی یا سیاہ روشنائی استعمال کی جاتی ہے
لیکن میں
بغیر روشنائی کے
کاغذ پر لکھ لیتا ہوں
اس میں آسانی یہ ہے
کہ مٹانے کی دقت سے نہیں گزرنا پڑتا
لکھائی کو پڑھنے میں بھی
مشکل پیش نہیں آتی
اگرچہ یوں
مختلف لوگ
اسے مختلف انداز سے پڑھیں گے
ممکن ہے
وہ معنی و مفہوم بھی الگ الگ نکالیں
لیکن یہ امکان تو
کسی بھی تحریر کو پڑھنے میں
بہرحال رہتا ہی ہے
اسی طرح
آپ اس بات کے پابند نہیں
کہ آپ
لکھ کس زبان میں رہے ہیں
ویسے میں جس زبان میں لکھتا ہوں
وہ میری اپنی ایجاد کردہ ہے
اور اس کے قواعد اور اصول بھی
میرے اپنے بنائے ہوئے ہیں
مجھے آج تک
ایک صفحہ بھی ایسا نہیں ملا
جس پر کچھ لکھا ہوا نہ ہو
اصل میں
میرا تجزیہ تو یہ ہے
کہ کاغذ پر
کسی بھی روشنائی کا استعمال
لکھنے کے لیے نہیں
بلکہ لکھے ہوئے کو
مٹانے کے لیے کیا جاتا ہے
یوں
دنیا کی ساری کتابیں
ہمیں کوئی علم نہیں دیتیں
بلکہ علم کے ماخذات پر
پردہ ڈالتی ہیں
صاف اور بے داغ کاغذ
صاف اور بے داغ تحریر ہے
جو کتاب ابھی منصہ ظہور پر نہیں آئی
اسے
اس کے عدم میں پڑھ کر دیکھیے
(شاعر: سعیدالدین)
🌹 Sharing is Caring 🌹