ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
ایک دیہی دکان کے داخلی راستے کے قریب دھوپ میں نیم خوابیدہ ایک بوڑھا کتا ہلکی سی سسکیاں لیتے ہوئے غرا رہا تھا۔
ایک گاہک نے دکان دار سے پوچھا،
’ آپ کا کتا ایسے کیوں غرا رہا ہے؟‘
دکان دار نے جواب دیا،
’دراصل، وہ ایک کیل کے اوپر لیٹا ہوا ہے۔‘
’ تو پھر، وہ وہاں سے اٹھ کیوں نہیں جاتا؟‘ گاہک نے حیرت سے پوچھا۔
’ کیوں کہ اسے بہت زیادہ درد نہیں ہو رہا۔‘
بسا اوقات ہم درد کو اس لیے نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں، کہ ہم کسی نئے ان دیکھے درد سے پہلے ہی اس کے خوف کا شکارہو چکے ہوتے ہیں۔
مثلا، اگر یہ نوکری چھوڑ دی اور نئی نہ ملی تو؟
یا نئی اس سے بھی بد تر ہوئی تو؟
یہ اندرونی خوف ہمیں پرانی تکلیف کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس طرح ہم بدحالی کو بھی اپنا کمفرٹ زون بنا لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ حالت ہمیں نئی نہیں لگتی۔ جب تک درد ناقابلِ برداشت نہیں ہو جاتا، ہم کسی تبدیلی کے لیے حرکت میں نہیں آتے۔ اگر ہر تکلیف میں ہمارے پاس ردعمل کے انتخاب کی آزادی ہے تو پھر اس تکلیف کو برداشت کرنے کے ہم خود کو ہی مسلسل سزا دے رہے ہوتے ہیں۔ اذیت کو اپنا معمول بنانے کی بجائے ہمیں بہتر تدبیر اور حکمت عملی سے اس سے نجات کی کوئی راہ نکالنی چاہیے۔
شاید اس بوڑھے کتے کا کیل پر لیٹ کر کام چل سکتا ہو مگر انسان درد کو اپنا کمفرٹ زون بنا لے تو وہ اسی جرم ضعیفی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی سزا مرگِ مفاجات کے سوا اور کیا ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹