✍️ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
نفس موج محیط بے خودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
دماغ عطر پیراہن نہیں ہے
غم آوارگی ہائے صبا کیا
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گر جنس وفا سن
شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
شکیب خاطر عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
یعنی رقیبِ بوالہوس کی ہوس کو نشاطِ کار و لطفِ وصلِ نگار حاصل ہے اب ہمارے جینے کا مزہ کیا رہا، مصنف کی اصطلاح میں ہوس محبت رقیب کا نام ہے، اسی غزل میں آگے کہتے ہیں:
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا میں انسان کو ہوا و ہوس سے رہائی نہیں، اگر مرنا نہ ہوتا تو اس طرح کے جینے میں کچھ مزہ نہ تھا یعنی حاصلِ زندگانی مرنا تھا۔
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
تغافلِ بدگمانی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
یعنی میرا حال سن کر تم کب تک ‘کیا کیا’ کہہ کر ٹالو گے، اس
تغافل شعاری سے آخر تمہارا کیا مطلب ہے۔
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
نوازشِ بے جا وہ جو رقیب پر ہو اور جب رقیب پر تمام التفات کرو تو میری شکایت سے کیوں برا مانو اور اُس کا گلہ کیوں کرو۔
نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
بے تکلف و بے حجاب ہو کر مجھ سے آنکھ چار کرو اور یہ تغافلِ صبر آزما کیسا یعنی میرا دل دیکھنے کے لئے اور میرے ضبط آزمانے کے لئے یہ چشم پوشی کیسی۔
فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
اس شعر میں رقیب پر طعن ہے کہ اُسے عشق نہیں ہے ہوس ہے، اس کی محبت شعلہِ خس کی طرح بے ثبات ہے اُسے ناموسِ وفا کا پاس بھلا کہاں، اُس کا فروغِ عشق چار دن کی چاندنی ہے۔
نفس موج محیط بے خودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
یعنی یہاں بے شراب پیے بے خودی ہے پھر بے التفاتی ساقی کا گلہ کرنا کیا ضرور ہے جسے اُس کی صورت دیکھ کر بے خودی ہو جائے اُسے وہ شراب نہ دے تو کیا شکایت۔
دماغ عطر پیراہن نہیں ہے
غم آوارگی ہائے صبا کیا
صبا سے بوئے گل مراد ہے اس سبب سے کہ صبا کے چلنے سے پھول کھلتے ہیں تو اُس میں بوئے گل ملی ہوئی ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر صبا آوارہ و پریشان نہ ہوتی تو سب پھولوں کی خوشبو ایک ہی جگہ جمع ہو جاتی لیکن شاعر کہتا ہے کہ مجھے پیراہن کے بسانے ہی کا دماغ نہیں ہے آوارہ مزاجی صبا کی کیا پروا ہے، ہوسِ دنیا سے ہوا سے ہے، بے وفائی دنیا کا کیا غم ہے۔
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
یعنی ہر قطرہ کو دریا کے ساتھ اتحاد کا دعویٰ ہے اسی طرح ہم کو بھی اپنے مبدأ کے ساتھ عینیت کا دعویٰ ہے، وہ دریا ہے اور ہم اسی دریا کے قطرہ ہیں اور قطرہ دریا میں مل کر دریا ہو جاتا ہے۔
محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا
’ادھر دیکھ’ معنی رکھتا ہے ایک تو مقامِ حتمیہ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تو میری طرف دیکھ تو سہی اگر میں شہیدِ نگاہ ہو جاؤں تو ذمہ کرتا ہوں کہ تجھے خون بہا نہ دینا پڑے گا۔
سن اے غارت گر جنس وفا سن
شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
یعنی تو جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں شکستِ دل کی خبر نہیں تو کہیں شکستِ دل میں آواز ہوتی ہے جو تجھے سنائی دیتی مصنف نے شکستِ دل کو شکستِ قیمتِ دل سے تعبیر کیا ہے اور اسی لئے جنس و غارت اُس کے مناسبات ذکر کئے ہیں دوسرا پہلو اس بندش میں یہ لگتا ہے کہ شکستِ دل کی صدا تجھے اچھی معلوم ہوتی ہے تو دل شکنی تو کئے جا اور سنے بھلا دل کی اور صدائے شکستِ دل کی کیا حقیقت ہے جو تو تامل کرے۔
کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
شکیب خاطر عاشق بھلا کیا
یعنی مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہے کہ بے تمہارے مجھے چین نہ آئے گا۔
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
اسی وعدہِ صبر آزما کو دوسرے مصرع میں فتنہِ طاقت ربا سے تعبیر کیا ہے اس شعر میں جس طرز کی بندش ہے مصنف کا خاص رنگ ہے اور اس میں منفرد ہیں۔
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
’کیا’ اس شعر میں حرفِ عطف ہے جسے معطوف و معطوف علیہ میں بیانِ مساوات کے لئے لاتے ہیں۔
🌹 Sharing is Caring 🌹