✍️ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا ✍️

میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں

( مرزا اسد اللہ غالب )


ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا

دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا

پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا


ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

یعنی رقیب روکے ہوئے تھا۔


تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا

تقدیر کی برائی کو تشنیع کی راہ سے خوبیِ تقدیر کہا ہے۔


تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

وہ میں ہی ہوں۔


قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا

یادِ زلف کے مقابلے میں قیدِ زنجیر کو بہت ہی سبک کر کے بیان کیا تاکہ یادِ زلف کی گراں باری بالتزام ظاہر ہو۔


بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

یعنی ایک جھلک دکھا کر ہٹ گئے تو کیا بات کی ہوتی کہ مجھے اس کی بھی تمنا ہے ‘کرتے’ مرتے وغیرہ تمنا کے لئے ہوا کرتا ہے۔


یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا

یعنی اس بات پر وہ اگر بگڑ سے کہ تم نے مجھے غلام بنایا تو بجا ہے۔


دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا

مطلب یہ کہ غیر کو برے حالوں دیکھ کر آنکھ اور دوسرے مصرع میں فاعل یعنی میں محذوف ہے اور ‘ولے’ فارسی کا محاورہ ہے، اب اُردو میں متروک ہے۔


پیشے میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

ہم ہی اور تم ہی اور اس ہی اور انھیں کی جگہ پر ہمیں اور تمہیں اور اُسے اور اُنھیں اب محاورہ میں ہے اور یہ کلمات اپنی اصل سے تجاوز کر گئے ہیں۔


ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

یعنی پاس نہ آیا تھا تو دور سے کوئی تیر ہی مار دیا ہوتا۔


پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

‘ہمارا’ کے بعد ‘بھی’ کے لانے کا محل تھا، مگر ضرورتِ شعر سے اُسے آخر میں کر دیا ہے، اس شعر میں محض ظرافت و لطیفہ گوئی کا قصد کیا ہے کہ کچھ انبساطِ نفس اس سے بھی حاصل ہوتا ہے۔


ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

معنی ظاہر ہیں۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top