“ہم وہی ہیں, “جو ‘انتخاب’ کیا
’’اس شخص کے لیے کوئی شے کافی نہیں ہوتی، جس کے نزدیک ’کافی‘ بھی ناکافی ہو۔ (ایپیکورس)
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ایک بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ کسی دنیوی غرض کے بغیر خالصتاً خدا کی راہ میں خیرات کرے گا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس خیرات کا انجام کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک قابلِ اعتماد نانبائی کو بلایا اور اسے دو روٹیاں تیار کرنے کا حکم دیا۔ ایک روٹی کے اندر کچھ بیش قیمت جواہرات گوندھ دیئے گئے، جبکہ دوسری روٹی صرف آٹے اور پانی سے تیار کی گئی۔
یہ دونوں روٹیاں ان دو افراد کو دی جانی تھیں جو نانبائی کی نظر میں سب سے زیادہ اور سب سے کم متقی ہوں۔
اگلی صبح دو آدمی تنور پر حاضر ہوئے۔ ایک نے درویشانہ لباس پہن رکھا تھا اور نہایت پارسا معلوم ہوتا تھا، حالانکہ حقیقت میں وہ محض ریاکار تھا۔ دوسرا شخص، خاموش طبع تھا۔ اتفاق سے چہرے کی مشابہت کی وجہ سے وہ نانبائی کو اس کے کسی ناپسندیدہ شخص کی یاد دلا رہا تھا۔
جیسے ہی اس منافق درویش کو روٹی ملی، وہ اسے ہاتھ میں تولنے اور ٹٹولنے لگا۔ اسے محسوس ہوا، روٹی میں آٹے کی گٹھلیاں رہ گئی ہیں۔ جب اس نے وزن کیا تو جواہرات کی وجہ سے اسے روٹی ضرورت سے زیادہ بھاری لگی۔ اس نے نانبائی کی طرف دیکھا اور بھانپ گیا، یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے جس سے بے تکلفی کی جا سکے۔ چنانچہ وہ دوسرے شخص کی طرف مڑا اور بولا؛
’’کیوں نہ تم اپنی روٹی میری روٹی سے بدل لو؟ تم بھوکے معلوم ہوتے ہو اور یہ روٹی سائز میں بڑی ہے۔‘‘
دوسراشخص، جو تقدیر کا ہر فیصلہ قبول کرنے پر آمادہ تھا، خوشی خوشی روٹی بدلنے پر تیار ہو گیا۔‘‘
بادشاہ جو دروازے کی درز سے یہ منظر دیکھ رہا تھا، حیران تو ہوا مگر دونوں افرد کی باطنی کیفیت نہ سمجھ پایا۔
یوں منافق درویش کے حصے میں سادہ روٹی آئی۔
بادشاہ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا; تقدیر نے درویش کو دولت کے فتنے سے دور رکھنے کے لیے مداخلت کی۔ دوسری طرف، حقیقتاً نیک انسان کو جواہرات مل گئے اور وہ ان کا بہترین استعمال کرنے کے قابل ہو گیا۔
بادشاہ اس واقعے کی گتھی نہ سلجھا سکا۔
نانبائی نے عرض کی؛
’’میں نے وہ کیا جو مجھے حکم ہوا تھا۔‘‘
بادشاہ بولا؛
’’تقدیر کے کام میں دست اندازی نہیں کی جا سکتی ۔‘‘
اور منافق درویش نے دل میں کہا؛
’’ واہ! میں کتنا چالاک تھا۔ (ادریس شاہ)
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
(شاعر: مرزا اسد اللہ غالب)
“ہم وہی ہیں, “جو ‘انتخاب’ کیا
بقول سارتر، ’’انسان کچھ بھی نہیں ہے، سوائے اس کے جو وہ اپنے انتخاب سے خود کو بناتا ہے۔‘‘ منافق درویش اپنی ہوشیاری کے تکبر میں اس نعمت سے محروم ہو گیا، جو اس کے ہاتھ میں تھی۔ انسان کو عطا ہونے والی چیز اس کے ظرف کے مطابق معنی اختیار کرتی ہے۔ وہ خوف اور لالچ کی کیفیت میں تھا، سو اس کی منافقت نے اسے روٹی کو ویسا ہی دکھایا جیسا وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اور اس اندھے پن میں اپنی حماقت کو ہوشیاری سمجھ لینا اس کی خود فریبی کی انتہا بن گئی، کیونکہ اپنی ذات کو فریب دے کر بھی خود کو درست خیال کرنا بہت بڑی نادانی ہے۔
اپنے تعصب کی بنا پر بعض اوقات ہم اپنی بے بنیاد معلومات کو یکطرفہ طور پر جمع کرتے ہیں، پھر ہم خود کو اس پر یقین دلاتے ہیں اور خود کو قائل بھی کر لیتے ہیں کہ ہم درست تھے۔
جدید نفسیات کا اصول ہے؛ ہمارا ادراک ہماری توجہ کا غلام ہے۔ جس طرف ہماری توجہ ہو گی، ہمیں اس پر حقیقت کا گماں ہو گا۔
جیسی جس کے گمان میں آئی
نطشے کہتا ہے؛ حقائق کچھ نہیں ہوتے، بس ان کی تشریحیں ہوتی ہیں۔
“بادشاہ نے اس معمے کو نوشتہِ تقدیر سمجھا، نانبائی نے اپنے ذاتی تعصب کے باوجود اسے محض فرمان شاہی کی تعمیل جانا اور درویش نے اسے اپنی ذہانت کا کرشمہ قرار دیا۔”
علم کیا علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
(شاعر: یاس یگانہ)
🌹 Sharing is Caring 🌹