گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

وقت کے بہاو میں وہ لوگ گرد بن کر ہمیشہ کے لیے خاک ہو جاتے ہیں جو اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے۔
وقت کی چال ایسی عجیب ہے، یہ گزرتے ہوئے بھی موجود ہی رہتا ہے اور ہم گزر جاتے ہیں۔ ہم اکثر غیر اہم کاموں میں الجھ کر وقت کی مٹھی سے ریت کی طرح بہتے ہوئے رائیگاں ہوتے رہتے ہیں۔
وہ لوگ عظیم ہیں جو ارفع و ادنی مقاصد میں فرق کر کے لمحہ موجود کی قیمت صحیح معنوں میں بیش قیمت بناتے ہیں۔

حکایت ہے؛
بدھا (گوتم بدھ) تبلیغ کی غرض سے مسلسل سفر میں تھا۔ ایک روز، وہ ایک انتہائی چوڑے اور گہرے دریا پر پہنچا تو اسے عبور کرنے کے لیے کشتی کی ضرورت پیش آئی۔ وہاں، قریب ہی، ایک عالم رہتا تھا۔ جب اس تک خبر پہنچی کہ بدھا دریا عبور کرنے کے لیے کشتی کا منتظر ہے، وہ فوراً بدھا کے پاس آیا اور کہنے لگا،۔
’’کیا آپ وہی مشہورِعالم بدھا ہیں؟‘‘
بدھا نے عاجزی سے جواب دِیا،۔
’’جی ہاں، محترم! بتائیے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘
۔’’ارے جناب! آپ واقعی وہی عظیم ہستی ہوں گے لیکن ذرا ملاحظہ کیجیے کہ میں کِس مقام پر فائز ہُوں۔‘‘۔
اور پھر اس عالم نے اپنی کرامات دِکھانا شروع کر دِیں۔
۔’’آپ کو معلوم ہے؟ میں بِنا کشتی کے، پانی پر چل کر دریا عبور کر سکتا ہوں’’۔
اور دریا کے کنارے واپس پہنچ کر اس نے فخر سے کہا،۔
’’کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟‘‘

۔’’کشتی کے سہارے کے بغیر دریا عبور کرنے کی مہارت حاصل کرنے کے لیے آپ نے کِتنا عرصہ ریاضت کی ہے؟’’۔
بدھا نے سوال کِیا۔
۔’’تقریباً، پچیس برس۔‘‘ اس عالم نے جواب دِیا۔

۔’’ارے واہ! یہ سب انتہائی حیران کُن ہے! لیکن، میں تو صِرف پندرہ سِکوں کے عِوض بآسانی دریا عبور کر سکتا ہوں۔‘‘
بدھا نے جواب دِیا۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top