کہ کام آئے دُنیا میں اِنساں کے اِنساں
اگر آپ اندھیری رات میں ٹمٹماتا ہوا ننھا سا دِیا ہیں، جو ٹمٹماتے ہوئے اس خوف سے دو چار ہے، ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اس کے باوجود آپ بساط بھر روشنی بکھیرکر کسی کے اندھیرے کو چاہے ایک لمحے کے لیے ہی کم کر رہے ہیں، ضرور رات کے اس تاریک ترین پہر میں کسی اور خطے میں روشنی بکھیرتا سورج آپ پر رشک کر رہا ہو گا ۔
اندھیروں کو لمحہ بھر کے لیے روشنی میں بدلنا شاید کوئی عظیم کارنامہ نہ ہو مگر جس کا وہ ایک لمحہ آپ کی وجہ سے روشن ہوا، اسے آپ نے ایک بار احساس دِلا دیا کہ وہ بے وقعت نہیں ، بلکہ آپ کے لیے بہت اہم ہے۔
جب آپ خود شکستہ ہوں، چُور چُور ہوں، بے آسرا ہوں۔ اپنی آنکھوں میں اشکوں کا طوفان ہو لیکن آپ کسی دوسرے کو جوڑ رہے ہوں۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ رہے ہوں۔ اسے جج کیے بغیر اپنی بچی کھُچی مسکراہٹ اُس پر نچھاور کر رہے ہوں۔ تب آپ ویسے ہی درخت کا رُوپ دھار لیتے ہیں، جو پھل سے محرومی کے باوجود دوسروں کے لیے سایہ بنا ہُوا ہے۔
آپ امید کی ڈوبتی کشتی کا وہ آخری تختہ ہیں جو کسی اور کو بھنور سے نکال کے کنارے تک لے آیا ہے۔
دِل میں زخم کھا کے جینا کمال ہے مگر اس سے بڑھ کے کمال یہ ہے، دوسروں کا درد ہمارے جِگر میں ہو۔
جیسے امیر مینائی کہتے ہیں؛
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جِگر میں ہے
مراقبے کی محفل میں ایک شاگرد نے گرُو سے سوال کیا
” میری ہِمّت ٹُوٹ چکی ہے ……. میں کیا کروں؟”
” دوسروں کی ہِمّت بڑھاو”، گرُو نے جواب دیا۔
یہی ہے عبادت، یہی دِین و ایماں
کہ کام آئے دُنیا میں اِنساں کے اِنساں
(حالی)
🌹 Sharing is Caring 🌹