کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تُو نے
کسی بھی عالم کی فضیلت اور مرتبے سے کوئی جاہل ہی انکار کر سکتا ہے۔ جو عالم علم و حکمت کی جستجو اور فروغ کے لیے خود کو وقف کر دے، اس کا قلم دنیا کا معتبر ترین ہتھیار ہوتا ہے جس سے آنے والی نسلوں کی جہالت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن علم اور جستجو کا یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ قطرے سے گہر بننے کے اس سفر میں حالات کے خطرناک ترین مگر مچھوں سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے، مسلمانوں نے دنیا میں ایسے ایسے علمی کارنامے سر انجام دیئے ہیں، جن کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔ یورپ میں بھی اندھیرے سے روشنی کے سفر کا آغاز مسلمانوں کے عِلم کے چراغ کی روشنی سے ہی ممکن ہوا۔ مسلم علماء نے کٹھن حالات میں بھی عزم و استقلال کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ صدیوں بعد جنم لینے والے علم کے متلاشی بھی ان کی عظمت کے قائل ہیں۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے ایک بار نہایت عاجزی سے علامہ اقبال سے سوال کیا تھا، ’اسرار خودی‘ اور ’پیامِ مشرق ‘ وہ ٹھیک سے سمجھ نہیں پائے۔ اقبال نے پوچھا، اسرارِ خودی کا مطالعہ کتنی بار کیا ہے تو جواب ملا، ابھی پہلا باب پڑھا ہے، اس سے آگے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ ابھی وہی حصہ سمجھ نہیں آیا۔ دوسری کتاب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ علامہ اقبال نے مسکراتے ہوئے کہا، جب خوشنویسی اور فن موسیقی ایک دن میں سمجھ نہیں آ سکتیں تو فلسفیانہ نظمیں ایک بار پڑھنے سے کیسے سمجھ آ سکتی ہیں؟ الفارابی نے ارسطو کو سمجھنے کے لیے برسوں تک مسلسل مطالعہ کیا تھا۔ آپ کو بھی یہی روِش اختیار کرنی ہو گی۔
اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں، ان مسلم دانشوروں نے عِلم کی ترویج کے لیے کیسے کیسے امتحانوں سے گزر کر اپنی تحقیق کو لفظوں کے سپرد کیا ہوگا۔
یہ ہستیاں مر کر بھی تاریخ میں امر ہوئیں۔ پروین شاکر کا یہ شعر ایسی ہی عظیم ہستیوں پر سچ ثابت ہوتا ہے۔
مر بھی جاوں تو کہاں لوگ بُھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے
ان دانشوروں نے عِلمی دیانت پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے، تحقیق اور جستجو کو اہم جانا۔ آپ امام بخاری کو دیکھ لیجیے۔ تقریباً سولہ برس کی شدید ریاضت کے بعد جمع کی ہوئیں احادیث میں بھی کمزور روایات کو جانچنے کے لیے سخت ترین اصول اپنائے۔ لاکھوں احادیث میں وہی منتخب کیں جو کڑی شرائط پر پوری اترتی تھیں۔
امام ابوحنیفہ کو بھی اکثر و بیشتر سیاسی مخالفت کا سامنا رہا۔ قید کاٹنی پڑی کیونکہ انہوں نے قاضی القضا بننے سے انکار کر دیا تھا۔ قید کے دوران انہوں نے فقہ پر کام جاری رکھا۔ تنقید کے باوجود علم کو ترجیح دی اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔
امام احمد بن حنبل نے بے شمار آزمائشیں اور قید و بند کی سختیاں برداشت کیں۔ کوڑے کھائے مگر علمی ریاضت سے پیچھے نہ ہٹے۔ ظلم و ستم کی آندھیاں بھی ان کے مضبوط ارادوں کو کھوکھلا نہ کر پائیں۔
ابن تیمیہ بھی ایسی ہی مشکلات سے دو چار رہے۔ قید کی حالت میں قلم سے رشتہ برقرار رہا۔ مایوسی کے اندھیروں میں اپنے لفظوں کی روشنی سے زمانے کو اجالا فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ چٹان کی مانند اپنے مقصد پر قائم رہے۔
ابن الہیثم صبر اور ثابت قدمی کی عظیم مثال تھے۔ کڑے حالات میں بھی وہ علمی اور تحقیقی سفر پر کاربند رہے۔ ان کے دور میں دریائے نِیل کی سیلابی حالت پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بنایا گیا۔ جب ابن الہیثم کو معلوم ہوا، یہ کام عملی طور پر ممکن نہیں تو خلیفہ کی ناراضی کے ڈر سے اس عظیم عالم کو جان بچانے کے لیے پاگل پن کا بہانہ کرنا پڑا۔ خود کو انہوں نے اپنے ہی گھر میں قید کر لیا۔ ان کی کتب ضبط کی گئیں مگر وہ اپنے تجربات و مشاہدات کو قلم بند کرنے سے باز نہ آئے۔
سائنس کی دنیا کی بے مثل ہستی ابنِ سینا کی بھرے دربار میں تذلیل کی گئی۔ تمام زندگی مشکلات میں کٹی۔ دربدری برداشت کی۔ قید کر کے بھی ان کے ضبط کو آزمایا گیا۔ اتنی بار بکھرنے کے باوجود انہوں نے اپنے اعصاب کو مضبوط رکھا اوراپنے قلم کا سفر تھمنے نہ دیا۔
دمشق کے محاصرے کے دوران ابن خلدون مسلسل تحریریں لکھتے رہے۔ انھوں نے اپنے بھرپور مشاہدات کو قلمبند کر کے ثابت کیا، حقیقی جرات اور مشکلات سے بھاگنے کی بجائے ثابت قدم رہ کر ان کا مقابلہ کرنا زیادہ اہم ہے۔
ابن رشد کے مقدر میں بھی در بدر کی ٹھوکریں رہیں۔ ان کی تصانیف پر پابندیاں لگائی گئیں۔ عین نماز کی حالت میں انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ شکستہ دِلی رہی، آزمائشیں آئیں مگر ان کا حوصلہ پَست نہ ہوا۔ ان کی کتابیں صدیوں تک یورپ کے نصاب کا حصہ رہیں۔ ارسطو پر شرحیں لکھ کر انہوں نے مغرب میں اس کو دوبارہ زندہ کیا۔
البیرونی نے اپنی تصانیف کے لیے طویل سفر کیے۔ زمانے کی تلخیاں برداشت کیں۔ کئی زبانیں سیکھیں۔ اپنی خوردبنیی بصیرت سے ہر چیز کا مشاہدہ کرتے رہے۔ ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران سنسکرت سیکھی۔ فلسفے اور سائنس پر تحقیق کی۔
امام غزالی اکثر گوشہ نشیں رہتے تھے۔ تنہائی میں تدبر و تفکر کرتے رہنا ان کا مشغلہ رہا۔ علم کی لگن اور تڑپ ایسی تھی، اکثر اپنی نیند اور بھوک بھی قربان کر دیتے تھے۔
محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے انتھک محنت سے مختلف زبانوں کا مطالعہ کیا۔ تراجم کیے۔ الجبرا کی بنیاد رکھی۔ بے پناہ مسائل کے باوجود کئی عِلمی مراکز قائم کیے اور درس و تدریس کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔
ایسی برگزیدہ ہستیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے، جنہوں نے اپنے عزائم کو آخری سانس تک اپنے سینوں میں بیدار رکھا۔ سخت ترین آزمائشوں میں بھی اپنے عمل سے ثابت کیا، عِلم کے ان چراغوں کو پھونکوں سے بجھانا ممکن نہیں۔ تنہا ہو کر بھی یہ ہستیاں زمانے پر بھاری رہیں۔ شکست سے چُور چُور ہوئیں، پَر شکست تسلیم نہ کی اور اپنے عمل پیہم سے یہ بات ثابت کی۔
لیا کیا زمانے نے ہم سے الجھ کر
وہیں آج بھی ہے نظر کل جہاں تھی