کائنات کا قیمتی ترین پتھر

اپنی ضرورت سے زیادہ اشیا کو دوسروں میں بانٹ دینا کیسا دلکش عمل ہے۔ مگر جو انسان اپنی ضرورت کی چیز بھی دوسروں کے مانگنے پر بغیر ہچکچائے انہیں عطا کر دے، وہ احساس کی بیداری کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہوتا ہے، جو اس بات کا زندہ ثبوت ہوتا ہے کہ قدرت انسان سے ابھی تک مایوس کوئی نہیں ہوئی۔
ایسے لوگوں کے حسن عمل سے ہی کائنات کا حسن باقی ہے اور جہاں بھی ایسے لوگوں کا بسیرا ہوتا ہے، زمین کا وہ ٹکڑا جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایسے لوگ قناعت کی دولت سے اتنے مالا مال ہوتے ہیں کہ باقی سب کچھ انہیں حقیر محسوس ہوتا ہے۔


پہاڑوں میں سفر کرنے والی ایک باشعور خاتون کو ندی میں سے ایک نہایت قیمتی پتھر ملا۔ اگلے روز اس کی ملاقات ایک اور مسافر سے ہوئی جو بہت زیادہ بھوکا تھا ۔ خاتون نے اپنا بیگ کھول کر اس اجنبی کو کھانے کے لیے کچھ دیا۔ بھوکے مسافر نے خاتون کے بیگ میں رکھا وہ قیمتی پتھر دیکھ لیا، اس کی تعریف کی، اور خاتون سے التجا کی کہ وہ پتھر اسے دے دے۔ خاتون نے بلا تامل اس کی خواہش پوری کر دی۔
مسافر جب وہاں سے روانہ ہُوا تو اپنی خوش قسمتی پر بے حد خوش تھا۔
اسے معلوم تھا؛ وہ پتھر اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اب وہ زندگی بھر کی فکرِ معاش سے آزاد ہو گیا ہے۔
لیکن کچھ روز بعد وہ واپس آیا اور اس خاتون کو تلاش کرنے لگا۔

جب وہ خاتون اسے ملی ، اس نے پتھر واپس کیا اور کہنے لگا ۔

۔ ”میں بس اسی سوچ کے زیرِ اثر رہا ، مجھے اس پتھر کی قدرو قیمت کا بخوبی علم ہے مگر میں اس امید پر آپ کو یہ واپس کر رہا ہوں کہ آپ کے پاس مجھے دینے کے لیے اس سے بھی بڑھ کر کوئی قیمتی چیز ضرور ہے۔
اگر آپ کے لیے ممکن ہے، تو مجھے اپنی وہ قیمتی ترین چیز عطا کیجئے جس نے آپ کو اس قابل بنایا کہ آپ نے یہ پتھر مجھے دے دیا۔” ۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top