غزل

بانگ درا

✍️ چمک تيری عياں بجلی ميں، آتش ميں، شرارے ميں ✍️

( علامہ محمد اقبال )


چمک تيری عياں بجلی ميں، آتش ميں، شرارے ميں
جھلک تيری ہويدا چاند ميں ،سورج ميں، تارے ميں

بلندی آسمانوں ميں، زمينوں ميں تری پستی
روانی بحر ميں، افتادگی تيری کنارے ميں

شريعت کيوں گريباں گير ہو ذوق تکلم کی
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے ميں

جو ہے بيدار انساں ميں وہ گہری نيند سوتا ہے
شجر ميں، پھول ميں، حيواں ميں، پتھر ميں ، ستارے ميں

مجھے پھونکا ہے سوز قطرہء اشک محبت نے
غضب کی آگ تھي پانی کے چھوٹے سے شرارے ميں

نہيں جنس ثواب آخرت کی آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہوں، ميں نے نفع ديکھا ہے خسارے ميں

سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستی ہے
تڑپ کس دل کی يا رب چھپ کے آ بيٹھی ہے پارے ميں

صدائے لن ترانی سن کے اے اقبال ميں چپ ہوں
تقاضوں کي کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے ميں


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top