✍️ پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا


پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

دوسرے مصرع میں ‘آیا’ ہوا کے معنی پر ہے، فارسی کا محاورہ ہے، اُردو میں اس طرح محاورہ نہیں بولتے، حاصل یہ ہے کہ دلِ جگر تشنہ فریاد ہوا تو مجھے دیدہِ تر یاد آیا کہ یہ پیاس اسی سے بجھے گی یعنی رونا بھی فریاد کرنا ہے، رونے سے دل و جگر کی خواہشِ فریاد پوری ہو جائیں گی یا دلِ تشنہ جگر کی پیاس اشکِ فریاد سے بجھے گی۔


دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا

دم لینا یعنی ٹھہرنا اور سکون ہونا اور قیامت بے تابی و اضطراب سے استعارہ ہے، یعنی اضطراب میں سکون ہونے نہ پایا تھا کہ پھر تیرا وداع ہونا اور سفر کرنا یاد آگیا۔


سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

پہلے مصرع میں ‘دیکھو’ محذوف ہے، کہتے ہیں میری سادگیِ تمنا کو تو دیکھو یعنی جو بات کے محال ہے اور ہونے والی نہیں اُس کی خواہش و آرزو مجھے سادگی و نادانی سے پیدا ہوئی ہے، یعنی پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا وہ اشارہ ہے اس سامانِ عیش و عشرت کی طرف جسے آنکھیں دیکھ چکی ہیں اور جسے مصنف نے یہاں نیرنگِ نظر سے تعبیر کیا ہے اور لفظِ سادگی سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اُس عیش کے دیکھنے کی اب اُمید بھی نہیں ہے۔


عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

حاصل یہ ہے کہ اے حسرتِ دل میرے عذر و امانگی کو قبول کر، میں چاہتا تھا کہ نالہ کروں مگر جگر کا خیال آ گیا کہ شق نہ ہو جائے، اس سبب سے نالہ نہ کیا قبول کر، پہلے مصرع میں محذوف ہے اور اس قسم کے محذوفات فارسی میں ہوتے ہیں، اُردو کی زبان ان کی مساعد نہیں، حذف سے شعر میں حسن پیدا ہو جاتا ہے مگر اسی جگہ جہاں محاورہ میں حذف ہے۔


زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کہتے ہیں کہ تیرا راہ گذر یاد آنے سے میری زندگی گذرنی کڑوی ہو گئی کہ میں زندگی سے بیزار تھا، لیکن اُس کے یاد آنے سے ایسا اندوہ و قلق ہوا کہ کاش کہ نہ یاد آیا ہوتا، زندگی تو کسی نہ کسی طرح کٹ ہی جاتی۔


کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

یعنی وہ خُلد کو ترجیح دے گا اور میں گھر کو تیرے یا میں خُلد سے نکلنا چاہوں گا اور وہ مجھے روکے گا۔


آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

یعنی وہ جگر جو مدت ہوئی کہ خون ہو گیا دل کی بے طاقتی اور کم جرأتی دیکھ کر یاد آگیا کہ اُس مرنے والے میں کیسی جرأتِ فریاد تھی وہ اس میں نہیں ہے۔


پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا

یعنی تیرے کوچہ میں دل کے گم ہو جانے کا احتمال ہے کہ خیال اسی طرف ڈھونڈنے چلا ہے


کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

یہاں دشت کی ویرانی میں مبالغہ اس لئے کیا کہ گھر کی ویرانی میں زیادتی لازم آئی، یعنی دشت میں ایسی ویرانی جیسے بعینہ میرے گھر میں تھی، تشبیہ معکوس ہے، مولوی الطاف حسین صاحب حالیؔ شاگردِ مصنف نے یہاں تشبیہ سے اعتراض کیا ہے، انھوں نے یہ مطلب لیا ہے کہ دشت کو دیکھ کے ڈر لگا تو گھر یاد آیا کہ یہاں سے بھاگوں یہ مطلب بھی محاورہ سے ملاحدہ نہیں ہے۔


میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

یعنی پھر اپنے ہی سر میں مار لیا۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top