غزل

بانگ درا

✍️ پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو ✍️

( علامہ محمد اقبال )


پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستاں ہو

تو خاک کی مٹھی ہے، اجزا کی حرارت سے
برہم ہو، پريشاں ہو، وسعت ميں بياباں ہو

تو جنس محبت ہے، قيمت ہے گراں تيری
کم مايہ ہيں سوداگر، اس ديس ميں ارزاں ہو

کيوں ساز کے پردے ميں مستور ہو لے تيری
تو نغمہ رنگيں ہے، ہر گوش پہ عرياں ہو

اے رہرو فرزانہ! رستے ميں اگر تيرے
گلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو

ساماں کی محبت ميں مضمر ہے تن آسانی
مقصد ہے اگر منزل، غارت گر ساماں ہو


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top