✍️ نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا


نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا

​ذوق سے صحرانوردی مراد ہے اور رفتار کو موج اور نقشِ قدم کو حباب کے ساتھ تشبیہ دینے سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح موج کا ذوقِ روانی کبھی کم نہیں ہوتا اسی طرح میرا بھی ذوق کم نہیں ہوگا، ایک بیاباں ماندگی خواہ صد بیاباں ماندگی ہو مراد ایک ہی ہے یعنی ماندگی مصرع ایک بیاباں کہہ کر ماندگی کی مقدار بیان کی ہے گویا بیاباں کو پیمانہ اُس کا فرض کیا ہے۔


محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

​بوئے گل دم کھنچنے کے ساتھ ناک میں آتی ہے تو یہ کہنا کہ بوئے گل سے ناک میں دم آتا ہے بیجا نہیں اور ناک میں دم آنا بیزار ہونے کے معنی پر ہے، یہاں دوسرے معنی مقصود ہیں اور پہلے معنی کی طرف ابہام کیا ہے۔



رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا

سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا

نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا

ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا

اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top