نقل اورنقل مکانی

بچہ آئندہ نسل کا نگہبان ہوتا ہے۔ وہ جس ماحول میں پروان چڑھتا ہے، اس کی شخصیت پر اسی کا رنگ غالب رہتا ہے۔ یہی ماحول اس کی شخصیت کی تعمیر یا تخریب دونوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کو بہتر معاشرے میں زندگی گزارنے کا موقع ملے تا کہ اس کی شخصیت کی تعمیر مثبت اخلاقی بنیادوں پر ہو۔
والدین اور اساتذہ کی حیثیت سے ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کے لیے ہمیشہ بہترین فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔


چائنہ کے عظیم فلسفی ’مین سیئس‘ کی عُمر جب تین برس تھی، اُس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کی ماں کو اس کی پرورش
کے لیے سخت جَتن کرنا پڑے۔

جب وہ بچہ تھا، اس کے اندر دوسروں کی نقل کرنے کی بہترین صلاحیت تھی۔ ایک وقت تھا، جب وہ قبرستان کے قریب رہتے تھے۔ وہاں ’ مین سیئس‘ نے مُردہ افراد کی قبروں پر سجدہ ریز ماتمی افراد کی نقالی کرنا شروع کر دی۔ جب اُ س کی ماں کو اس بات کی خبر ہوئی، اُس نے فیصلہ کر لیا، اپنے بچے کی پرورش کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں۔ سَو، اُس نے وہاں سے نقل مکانی کر دی۔

ان کا نیا ٹھکانہ ایک قصاب خانے کے ساتھ تھا۔ جلد ہی’مین سیئس‘ نے قصابوں کی نقالی شروع کر دی۔ ماں سمجھ گئی ، یہ ماحول بھی بیٹے کی نشوونما کے لیے بہتر نہیں۔ اُس نے دوبارہ نقل مکانی کی۔

اب انھوں نے ایک سکول کے بالکل نزدیک مکان میں رہائش اختیار کی۔ ’مین سیئس‘ نے وہاں طلبہ کی نقالی شروع کر دی۔ اُس نے کتابیں پڑھنا، عِلم حاصل کرنا اور اچھے اطوار کا مظاہرہ کرنا شروع کردِیا۔

ماں نے وہاں سے نقل مکانی نہیں کی۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top