✍️ نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا ✍️

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا


نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

​مصنف مرحوم ایک خط میں خود اس مطلع کے معنی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں، ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسے مشعلِ دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا لے جانا، پس شاعر خیال کرتا ہے کہ نقش کس کی شوخیِ تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے، اُس کا پیرہن کاغذی ہے، یعنی ہستی اگرچہ مثلِ ہستی تصاویر اعتبارِ محض ہو موجبِ رنج و ملال و آزار ہے، غرض مصنف کی یہ ہے کہ ہستی میں مبداءِ حقیقی سے جدائی و غیریت ہو جاتی ہے اور اس معشوق کی مفارقت ایسی شاق ہے کہ نقشِ تصویر تک اُس کا فریادی ہے اور پھر تصویر کی ہستی کوئی ہستی نہیں، مگر فنا فی اللہ ہونے کی اُسے بھی آرزو ہے کہ اپنی ہستی سے نالاں ہے، کاغذی پیرہن فریادی سے کنایہ فارسی میں بھی ہے اور اُردو میں، میر ممنون کے کلام میں اور مومن خاں کے کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے، مگر مصنف کا یہ کہنا کہ ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، میں نے یہ ذکر نہ کہیں دیکھا نہ سنا، اس شعر میں جب تک کوئی ایسا لفظ نہ ہو جس سے فنا فی اللہ ہونے کا شوق اور ہستی اعتباری سے نفرت ظاہر ہو اس وقت تک اسے با معنی نہیں کہہ سکتے، کوئی جان بوجھ کر تو بے معنی کہتا نہیں یہی ہوتا ہے کہ وزن و قافیہ کی تنگی سے بعض بعض ضروری لفظوں کی گنجائش نہ ہوئی اور شاعر سمجھا کہ مطلب ادا ہو گیا تو جتنے معنی کہ شاعر کے ذہن میں رہ گئے، اسی کو المعنیٰ فی بطن الشاعر کہنا چاہئے، اس شعر میں مصنف کی غرض یہ تھی کہ نقشِ تصویر فریادی ہے، ہستی بے اعتبار و بے توقیر ہے اور یہی سبب ہے کاغذی پیرہن ہونے کا، ہستی بے اعتبار کی گنجائش نہ ہوسکی اس سبب سے کہ قافیہ مزاحم تھا اور مقصود تھا مطلع کہنا ہستی کے بدلے شوخیِ تحریر کہہ دیا اور اس سے کوئی قرینہ ہستی کے حذف پر نہیں نہیں پیدا ہوا اور آخر خود ان کے منہ پر لوگوں نے کہہ دیا کہ شعر بے معنی ہے۔


کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

​کاو کاو کھودنا اور کریدنا مطلب یہ ہے کہ تنہائی وفراق میں سخت جانی کے چلتے اور دم نہ نکلنے کے ہاتھوں جیسی جیسی کاوشیں اور کاہشیں مجھ پر گزر جاتی ہیں اُسے کچھ نہ پوچھ رات کا کاٹنا اور صبح کرنا جوئے شیر کے لانے سے کم نہیں یعنی جس طرح جوئے شیر لانا فرہاد کے لئے دُشوار کام تھا اسی طرح صبح کرنا مجھے بہت ہی دُشوار ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے تئیں کوہکن اور اپنی سخت جانی شبِ ہجر کو کوہ اور سپیدہِ صبح کو جوئے شیر سے تشبیہ دی ہے۔


جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

​دم کے معنی سانس اور باڑھ اور یہاں دونوں معنی تعلق ومناسبت رکھتے ہیں کہ سینۂ شمشیر کہا ہے، مطلب یہ ہے کہ میرے اشتیاقِ قتل میں ایسا جذب وکشش ہے کہ تلوار کے سینہ سے اس کا دم باہر کھینچ آیا۔


آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

​یعنی میری تقریر کو جس قدر جی چاہے سنو، اُس کے مطلب کو پہنچنا محال ہے، اگر شوقِ آگہی نے صیاد بن کر شنیدن کا جال بچھایا بھی تو کیا، میری تقریر کا مطلب طائرِ عنقا ہے جو کبھی اسیرِ دام نہیں ہونے کا غرض یہ ہے کہ میرے اشعار سراسر اسرار ہیں۔


بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

مضطرب اور بے تاب کو آتش زیرِ پا کہتے ہیں اور آتش جب ورِ پا ہوئی تو زنجیرِ پا گویا موئے آتش دیدہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ بال آگ کو دیکھ کر پیچ دار ہو جاتا ہے اور حلقہ زنجیر کی سی ہیئت پیدا کرتا ہے۔


آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا

شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا

لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا

خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا

وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top