✍️ نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
پہلوے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
یعنی: اگر چہ دل بیتاب بنا مگر اس کی بیتابی بر خلافِ مدعا تھی گویا دل بیتاب سپندِ بزمِ وصلِ غیر تھا۔
مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
یعنی: سیلاب کے آنے سے خانہِ عاشق صدائے آب کا ارغنوں بن گیا جس کو سن کر دل کو سرور و نشاط ہے۔ آہنگ کا لفظ مناسبِ ساز ہے غرض یہ ہے کہ عشاق کو اپنی خانہ خرابی سے لذت حاصل ہوتی ہے۔
نازش ایام خاکستر نشینی کیا کہوں
پہلوے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
یعنی: اگر چہ میں خاک نشیں تھا لیکن میرا دل قناعت کے فخر و ناز کے سبب سے فرشِ سنجاب پر لوٹ رہا تھا۔
کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
جنونِ نارسا نے کچھ نہ کی یعنی: اکتسابِ فیض سے اور اتحادِ معشوق سے محروم رکھا، ورنہ ایک ایک ذرہ نے ایسا اکتسابِ نور کیا تھا کہ رشکِ دو آفتاب تھا۔
قطعہ
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
یہ قطعہ ہے: دام کو دیدہِ بے خواب سے تشبیہ دی ہے یہ تشبیہ یہ ہے کہ دیدہِ بے خواب کی طرح حلقہِ دام کھلا رہتا ہے۔
میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
یعنی: سیلاب گریہ آسمان تک بلند ہو جاتا۔
دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
آسمان سفلہ جس میں یک کف سیلاب تھا
موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
قلزم ذوق نظر میں آئنہ پایاب تھا
جوش تکلیف تماشا محشرستان نگاہ
فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
بے دلی ہاے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
یاد ایامے کہ ذوق صحبت احباب تھا
🌹 Sharing is Caring 🌹