میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق
ایک رات جب ایک مشہور اداکار سٹیج پر جلوہ گَر ہونے کے لیے بالکل تیار تھا، اس کے نئے معاون نے اسے بتایا کہ اس کے جُوتوں کے تسمے ڈھِیلے ہیں۔ اداکار نے اس کا شکریہ ادا کیا اور تسمے باندھنے کے لیے نیچے جُھک گیا۔
جب وہ معاون چلا گیا، تو اداکار پھِر سے جُھکا اور تسمے دوبارہ ڈھیلے کر دئیے۔
سٹیج ہیلپر یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا،
’’آپ نے جُوتوں کے تسمے باندھ کر پھِر دوبارہ سے ڈِھیلے کیوں کیے؟‘‘
’’تمہیں پتہ ہے، آج مجھے ایک بے ڈھنگے، تھکے ماندہ شرابی کا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر تسمے ڈِھیلے ہوں گے تو میری اداکاری میں حقیقت کی جھلک زیادہ نظر آئے گی۔‘‘
اداکار نے جواب دیا۔
’’پھِر، آپ نے یہ بات اپنے معاون کو کیوں نہیں بتائی؟‘‘
’’اس کے مشورے میں اتنی گہری دِل چسپی اور خلوص کی آمیزش تھی کہ اسے ٹھیس پہنچانے کا میرا دِل ہی نہیں چاہا۔مُجھے یقین ہے، بعد میں حقیقت خُود اُس پر آشکار ہو جائے گی۔‘‘
دوسروں کی رائے کا احترام انسان کے اخلاقی قد میں اضافہ کرتا ہے۔ کسی دوسرے کی رائے سے اختلاف کے باوجود اس کا احترام انسان کی وہ فکری برتری ہے جو اسے مقام نرگسیت سے بلند کر کے شرف انسانیت کی اعلی ترین مسند پر براجمان کرتی ہے۔
خود درست سمت میں ہو کر بھی دوسرے کے اختلاف کو کشادہ دلی سے قبول کرنا، درحقیقت کمزوری نہیں؛ یہ بلند اخلاق اور عظمت کردار کی دلیل ہے۔
کسی کی ذات کو ہدف بنانے والی مخالفت کی بجائے اس کی بات سے اختلاف کا حق باہمی محبت اور کامل احترام کا ثبوت ہے۔ اپنے موقف پر یقین رکھتے ہوئے بھی دوسروں کو اختلاف کی آزادی دینا حقیقی ظرف کی علامت ہے۔۔
میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق
یہ اختلاف کا حق ہے مخالفت کا نہیں
(شاعر: ثناء اللہ ظہیر)
🌹 Sharing is Caring 🌹