میں بمقابلہ تم


اُس نے ایک دائرہ کھینچا
اور مجھے اس سے نِکال باہر کیا
(پھروہ چیخا)
بدعقیدہ، سرکش، قابل نفرت (ہو تم)

لیکن محبت اور میں
جِیت کے فن سے بخوبی آشنا تھے
ہم ( دونوں ) نے ( بھی ) ایک دائرہ کھینچا
اور اُسے ( اپنے دائرے کے ) اندر کر دِیا۔
(ایڈون مارکم)




ننھا بَڈّی اپنی عمر کے لحاظ سے بہت زیادہ تیز اور شاطر تھا۔ اگرچہ وہ پَستہ قامت تھا لیکن بے حد حاضِر دماغ تھا۔
ایک روز، وہ اپنے سکول کے صحن میں لنچ سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ تین ہٹے کٹے لڑکے اس کی جانب بڑھے اور رعب دار لہجے میں اس سے اس کا کھانا مانگا۔ وہ تھوڑا سا ہچکچایا اور آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

” لگتا ہے، تُم اونچا سُنتے ہو”
ان تینوں میں سب سے دراز قد لڑکا غُرّایا،
”ہم نے کہا ، لنچ بکس ہمارے حوالے کر دو۔”

بَڈّی ڈرامائی انداز میں پیچھے ہٹا اور پھر ایک ٹانگ کو حرکت دے کر جوتے سے کچے صحن پر ایک لکیر کھینچی۔ اس نے اس گروپ کے لیڈر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا،
”ہمت ہے تو یہ لائن کراس کر کے دکھاو۔”

وہ لمبا چوڑا لڑکا چیلنج قبول کر کے ایک لمحہ تامل کیے بغیر اپنا پاوں رگڑتے ہوئے اس لائن سے آگے بڑھا اور دھاڑا،
” لو، میں نے لائن کراس کر لی ہے۔ اب کر لو جو کرنا ہے۔”

اس پَستہ قد لڑکے نے، دھونس جمانے والے لڑکے کی آنکھوں
میں پِھر سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا،
”اب جھگڑا کیسا؟ اب تو ہم دونوں ایک ہی طرف کھڑے ہیں۔”



اکثر اوقات جسمانی طاقت کی بجائے دماغ کا درست استعمال ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم صورت حال کو ’میں بمقابلہ تم‘ سے بدل کر ’ہم‘ کر دیں، تو اکثر مسائل کا حل بغیر الجھے نکل آتا ہے۔ دشمن کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے دوستی کے دائرے میں شامل کر دیا جائے۔ اس طرح ہم دشمن سے لڑے بغیر اسے زیر کر سکتے ہیں۔



’اندھیرا، اندھیرے کو نہیں بھگا سکتا؛ صرف روشنی ایسا کر سکتی ہے۔ نفرت، نفرت کو نہیں ختم کر سکتی، صرف محبت ایسا کر سکتی ہے۔‘
(مارٹن لوتھر کنگ جونیئر)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top