✍️ میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
یعنی تعجب کا مقام ہے کہ مجھے اور شراب نہ ملے، میں نے خود نہیں مانگی تھی تو خود ساقی نے پلا دی ہوتی۔
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
یعنی وہ دن گئے کہ دل اپنی جگہ پر تھا اور جگر اپنی جگہ پر تھا۔
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
مشکل کو گرہ سے استعارہ کیا ہے اور تدبیر کو ناخن سے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹