میری دُعا ہے تیری آرزو بدل جائے
ہمیں اپنوں غیروں سے اکثر یہی شکوہ رہتا ہے، انہوں نے ہمیں ہمارے حِصے کے سُکھ نہیں دیئے۔ اِ س نے زخم دیئے، اُس نے دھوکے دیئے۔ فلاں نے ہمارا یہ حق چھینا، فلاں نے کِسی لائق نہیں سمجھا۔ آپ نے آج تک میرے لیے کیا کِیا، آج تک مجھے کیا دِیا؟ یہ نہ ہوتا تو میں اُس مقام پر ہوتا، وہ نہ ہوتا تو میں سب جیت چکا ہوتا۔
ہمارے پاس شکایات اور دوسروں سے وابستہ پُوری نہ ہونے والی، ادھوری خواہشات کی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ہوتی ہے۔
اقبال کہتے ہیں؛
تیری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پُوری
میری دُعا ہے تیری آرزو بدل جائے
کیسا کمال ہو، اگر ہم دوسروں سے شکایات کی بجائے، اس فن میں کمال حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ دُوسروں نے جو ہم سے توقعات لگائی ہیں، ہم نے انہیں پُوری کرنے کی کتنی کوشش کی ہے۔ یہ حِساب بھی لگائیں، ہم نے دوسروں کو کیا دیا۔ ایک بارآرزو کا رُخ بھی بدل کے دیکھیں؛
شاید اِس طرف رُوح کے لیے سکُون ہی سکُون ہو۔
آئیں ننھے چیڈ سے کُچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک روز ، اُس نے اپنی ماں کو بتایا ، فرینڈ شپ ڈے پر وہ پُوری کلاس کے لیے کارڈز بنائے گا ۔ ماں کا دِل ڈوب گیا۔ وہ ایسا کچھ نہیں چاہتی تھیں۔ انہوں نے کئی بار محسوس کیا تھا؛ چھٹی کے وقت سکول سے گھر آتے ہوئے چیڈ ہمیشہ سب سے پیچھے ہوتا ہے۔ سب بچے آپس میں ہنسی مذاق کرتے ہیں مگر چیڈ ہمیشہ تنہا ہوتا ہے۔
پھر بھی ماں نے فیصلہ کر لیا، وہ اپنے بیٹے کا ساتھ دیں گی۔ انہوں نے چارٹ پیپرز ، گلیو اور کلرز خرید لیے۔ راتوں کو دیر تک جاگ کر چیڈ نے بڑی مشقت سے پینتیس کارڈز بنائے ۔
جب فرینڈ شپ ڈے آیا ، وہ بے حد خوش تھا۔ اُس نے بڑی احتیاط سے کارڈز اکٹھے کیے، اپنے بیگ میں ڈالے اور سکول کے لیے نِکل پڑا۔
ماں نے اپنے بیٹے کے پسندیدہ بسکٹ بنانے شروع کر دیئے تا کہ جب وہ واپس آئے تو ٹھنڈے دودھ کے گلاس کے ساتھ نرم گرم بسکٹ اپنے بیٹے کو پیش کرے۔ وہ جانتی تھیں ، اُن کا بیٹا مایوس لوٹے گا ۔ وہ کِسی طرح اُس کی تکلیف کم کرنا چاہتی تھیں۔ انہیں یہ خیال کھائے جا رہا تھا؛ شاید اُن کے بیٹے کو زیادہ کارڈز نہ ملیں اور یہ بھی ممکن ہے ایک بھی کارڈ نہ ملے۔
اپنا کام مکمل کر کے جب وہ بیٹے کی منتظر تھیں، انہوں نے گلی میں بچوں کا شور سُن کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ حسبِ معمول ، سبھی بچے ہنستے کھیلتے آ رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح اُن کا بیٹا سب سے پیچھے تھا۔ لیکن اس کی رفتار آج قدرے تیز تھی۔ ماں کوخدشہ تھا، جونہی وہ گھر میں داخل ہو گا ، پھُوٹ پھُوٹ کر رونا شروع کر دے گا۔ ماں نے دیکھ لیا تھا، بیٹے کے ہاتھ خالی تھے ۔جب دروازہ کھُلا تو وہ بمشکل اپنے آنسو ضبط کر کے بولِیں،۔
۔” سرپرائز!۔۔۔۔۔ ماما آج اپنی جان کو اس کے پسندیدہ بسکٹ اور دودھ پیش کریں گی۔”۔
لیکن وہ شاید اپنی ماں کے الفاظ ٹھیک سے سُن ہی نہ پایا اور چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ آگے بڑھ کے چِلّانا شروع ہو گیا۔
۔” ایک بھی نہیں ، کوئی ایک بھی نہیں” ۔
ماں کا دِل بیٹھ گیا۔
بیٹے نے پھر سے کہا،۔
کوئی ایک بھی نہیں، جسے میں نے کارڈ نہ دیا ہو، کوئی ایک بھی نہیں جسے میں بھُولا ہوں۔
🌹 Sharing is Caring 🌹