مگر ہم دُوسروں کو رَوند کر اُونچے نہیں ہوتے
اِنسان آرزو اور آس کے سہارے ہی جیون بسر کرتا ہے۔ صِرف مُردہ شخص ہی خواہش سے آزاد ہوتا ہے۔ خواہش جیتے جاگتے انسان کا ساتھ چھوڑ دے تو وہ بھی چَلتا پھِرتا مُردہ ہی رہ جاتا ہے۔
سانسیں لیتا ہُوا مُردہ۔
اپنے وجود کا کھوکھلا پَن اِدھر اُدھر دھکیلتا مُردہ۔
اور اپنے اندر کی مایوسی سے ہر طرف مایوسی بانٹتا مُردہ۔
خواہش زِندہ دِلی کی علامت ہے۔ بہتر سے بہترین کی خواہش ہر انسان کا حق ہے لیکن شرفِ انسانیت کا پاسدار ذی نفس یہ نکتہ کبھی نہیں بھُولتا؛
اصل سکندر وہ ہے جو اپنی ہر اُس خواہش پر فتح حاصل کرتا ہے جو کسی اور کو کُچل کر پُوری کی جائے۔
انسان کا ظرف کچھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
ہمیں بھی سر بُلندی کی تمنا تنگ کرتی ہے
مگر ہم دُوسروں کو رَوند کر اُونچے نہیں ہوتے
(سید قاسم شاہ )
سکندرِ اعظم کے بارے میں تحریر کردہ سٹِیوَن پرَیسفِیلڈ کے کلاسیکل ناول ’دی ورچُوز آف وار‘ کے ایک منظرمیں، دریا عبور کرتے ہوئے سکندرِ اعظم کا سامنا ایک ایسے فلسفی سے ہوتا ہے جِس کی نگاہ میں سکندرِ اعظم کا یہ جاہ و جلال ایک تِنکے کے برابر نہیں۔
فلسفی کی یہ بے نیازی دیکھ کر ایک سپاہی نہایت غُصے سے اُس پَرچیختا ہے،۔
۔’’ جانتے ہو، اِس عظیم اِنسان نے پُوری دُنیا کو فتح کِیا ہے۔
تُم نے کون سا کارنامہ کِیا ہے ؟ ‘‘۔
فلسفی مطمئن نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے قناعت بھرے لہجے میں جواب دیتا ہے ،۔
’’ میں نے دُنیا کو فتح کرنے کی خواہش کو فتح کیا ہے۔ ‘‘
🌹 Sharing is Caring 🌹