محبت کرنے والوں کی یاد میں
یہ تحریر ان گمنام محبت کرنے والوں کی یاد میں ہے؛
جو حق کی خاطر تاریک راہوں میں روشنی بکھیرتے ہوئے چپ چاپ سوئے عدم روانہ ہوئے۔
جو خود کو ہار کر انسانیت کی جیت بنے۔
جن کی سچائی کی تشنگی زہر کے پیالوں سے بھی نہ بجھی۔
ان بے نام سپاہیوں کی یاد میں، جو ہر لحظہ دار سے الجھتے رہے مگر پھر بھی منصب ِمنصور ان کے حصے میں نہ آیا۔
جو عمر بھر کسی مقصد کی خاطر نہتے رہ کر بھی ایک خاموش جنگ لڑتے رہے۔
جو پلکوں میں رتجگوں کے بوجھ لیے زمانے بھر کو نیندیں بانٹتے رہے۔
جو مسیحا تھے، چارہ گر تھے مگر بیمار معاشرے کی لاعلاج فراموشی کے مرض کا شکار ہوئے۔
جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے زندگی بھر بے ٹھکانہ رہے اور موت سے ہی ٹھکانے لگے۔
جنھوں نے ہنسی خوشی خود کو اپنوں میں بانٹ دیا اور اپنے حصے میں خود بھی نہ آ سکے۔
جن کے اندر اپنی ہی دفنائی ہوئی چیخوں کا قبرستان تھا لیکن وہ دوسروں کے لیے گلستان بن کے مہکتے رہے۔
جو وقت کے کتبے پر کندہ تو نہیں مگر وقت کی اوقات سے کہیں پرے بے نیازی سے جیے۔
ان ناگفتہ بہ عظیم ہستیوں کی یاد میں ہے، جو اپنی آستینوں میں ’ید بیضا‘ لیے ہمارے ارد گرد موجود رہیں مگر ہماری احسان فراموشی کے بلیک ہول میں ان کے باطن کی روشنی پہنچ ہی نہ سکی ۔
جن کے ظرف کا قد کم ظرف بونے کبھی جان ہی نہ پائے۔
جو صبر کے پھل کا لقمہ چکھنے سے پہلے ہی لقمہ اجل ہوئے۔
جن کا کردار کسی رزمیہ سے کم نہ تھا مگر تاریخ ان کی عظمت کے اعتراف میں ایک ون لائنر لکھنے سے بھی گریزاں رہی۔
جو اَن سنی دھنوں سے کہیں زیادہ دلکش اور شیریں تھے لیکن زمانے کی بے حسی کے شور میں کسی کو سنائی ہی نہ دیئے۔
جنھوں نے دوسروں کے جذبے کی ہر ڈاک کسی ایماندار پوسٹ مین کی طرح بروقت منزل منزل پہنچائی مگر اپنے احساسات اور جذبات کو مصلحتوں کی الماری کے ڈیڈ لیٹر سیکشن میں رکھ کر ہمیشہ کیلیے طاق نسیاں میں پڑے رہے۔
جو ہر پکار پر لبیک کہنے کے باوجود خود گمشدہ بازگشت بن کے جیے۔
جو اوروں کے لیے ہمہ وقت سراپا دعا رہے مگر اپنے لیے انہیں کبھی کوئی ’حرف دعا‘ یاد ہی نہ رہا۔
ان کرداروں کی یاد میں ہے، جن کے حصے کے مکالمے بھی کوئی اور بول گیا۔
ان محروم تمنا مسخروں کی یاد میں ہے، جو کہانی میں صرف ہنسانے کے لیے آئے اور پردہ گرنے سے پہلے ہی ہنسی میں اڑا دیئے گئے۔
ان تماشائیوں کی یاد میں ہے، جن کے حصے میں فقط تالیاں بجانے کا کردار آیا اور انہوں نے اپنا وہ کردار بھی سٹیج کے پرفارمرز سے کہیں زیادہ بہتر نبھایا۔
اور جن کے پاس ’نقش فریادی ‘ بننے کی سہولت تو تھی مگر انھوں نے ’نقش‘ بنے رہنے پر اکتفا کیا اور چپکے سے کسی کے خاک اڑاتے قدموں کی خاک ہوئے۔
اور جنہوں نے عمر بھر ستائش کی ہر خواہش کو اپنی ٹھوکر پر رکھا لیکن پھر جانے کس مہرباں نفس کی یاد میں آخری ٹھوکر کھا کر ادھر ادھر بے بسی سے نگاہ دوڑاتے اور زیرلب یہ نوحہ پڑھتے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئے۔
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
یہ نظم ان محبت کرنے والوں کی یاد میں ہے
جن کی یاد میں شہر کے وسط میں
کوئی فوارہ نہیں لگایا جائے گا
اور جن کے نام کی سڑک کہیں نہیں ہو گی
اور جن کے کے لیے کوئی اپنا سکہ پانی میں نہیں پھینکے گا
یہ نظم ان محبت کرنے والوں کی یاد میں ہے
جن کی یاد میں کوئی اپنے پالتو جانور کو
ان کے نام سے نہیں پکارے گا
کوئی انہیں کسی جنگ یاد حادثے میں نہیں مارے گا
جن کے لیے کوئی اپنے کالر
یا کسی قبر پر پھول نہیں سجائے گا
اور جن کی یاد میں
کوئی نظم نہیں لکھی جائے گی
(شاعر: ذیشان ساحل)
🌹 Sharing is Caring 🌹