لوگوں پر نہیں، ان کے ساتھ ہنسیں۔
کسی کی خوبی کا تذکرہ محفل میں اور اُس کے عیب کا ذکر اُسی کے سامنے کیجیے۔ کوئی آپ کو مسیحا سمجھ کراپنا مسئلہ لے کر آتا ہے تو اُسے سنیے، ٹوکیے نہیں۔ سُن کر اُس کے مسئلے کو چھوٹا ثابت کرنے کے لیے جہاں بھر کی مثالیں نہ دیجیے۔ اِس کی دِلجوئی کی خاطر پہلے تسلیم کر لیجیے کہ اُس کا مسئلہ واقعی میں بڑا ہے۔ اس کے بعد کوئی مشورہ دیجیے۔ایسے لوگوں کو فقط ’سامع‘ میسر ہو تو اُن کے بہت سے مسئلے یونہی حل ہو جاتے ہیں۔
نِیل ڈِیگریس ٹائسن نے حیرت ظاہر کی تھی کہ ’’یہ عجیب بات ہے؛ ناکام افراد کی حوصلہ افزائی کی بجائے ہمارا بیشتر وقت کامیاب افراد کو مبارکباد دینے میں صَرف ہو جاتا ہے۔
‘‘پِیٹر جے۔ پِیٹر چوتھی جماعت میں تھا جب اُس کی ٹیچر مِسز فِلپس ہر روز اِن الفاظ میں اُس کی سرزنش کرتی تھی،
’’ پِیٹر تُم اچھے اِنسان نہیں ہو اور نہ کسی کام کے ہو۔ تُم زِندگی میں کبھی کچھ کر نہیں پاو گے۔‘‘
پِیٹر کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی، وہ نکما اور کند ذہن ہے۔ وہ اَن پڑھ ہی رہا اور پھِر جب وہ چھبیس برس کا تھا، اُس کا ایک دوست رات بھر اُسے نپولین ہِل کی ایک کتاب پڑھ کے سناتا رہا۔اُس واقعے نے اُس کی زِندگی بدل ڈالی اور پھِر وہ وقت بھی آیا کہ اُس کی پہچان بطور ایک مصنف ہر طرف پھیل گئی۔ اُس نے متعدد کتابیں لِکھیں اور اُن میں سے ایک کتاب کا عنوان ہے؛
’مِسز فلپس، آپ غلط تھیں۔‘
ٹیچر کی مسلسل حوصلی شِکنی نے پیٹر کے مقدر میں آوارگی رکھ دی اور ایک دوست کی حوصلہ افزا رفاقت نے اُس کی زندگی بدل ڈالی۔
سماج میں ’مردم بیزاری‘ کی بہت بڑی وجہ حَد دَرجہ نکتہ چینی اور بے جا تنقید ہے۔ لوگوں کو جینے دیجیے۔ ہمارے سماج میں گھُٹن بڑھتی چلی جارہی ہے کیوں کہ ہم ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں بِلا وجہ اپنی ناک گھسیڑتے ہیں۔
حسِ مزاح انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے لیکن اپنی حسِ مزاح سے فقط دوسروں کا ’مذاق‘ اڑانے کا کام نہ لیجیے۔ حسِ مزاح میں لطافت اور شگفتگی پیدا کیجیے۔ لوگوں پر نہیں بلکہ اُن کے ساتھ ہنسیں۔ پَل بھر کی ہنسی کے لیے کسی اور کی زِندگی اجیرن مت کیجیے۔
لوگوں میں ایسے رہیے کہ جب آپ ان کے ساتھ ہوں تو انھیں یہی احساس رہے، وہ بہت خوب صورت ہیں۔
کوئی بڑا کام ممکن نہیں تو کم از کم اپنی ہستی کو ایسا آئینہ بنا دیجیے جِس میں لوگوں کو ان کی خوب صورتی نظر آئے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹