✍️ لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا

حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا


لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا

(یعنی جب آئینۂ صبا میں زنگ لگا تو سبزہ زار پیدا ہوا، یہ تمثیل ہے اس بات پر کہ بے تعلق بادہ جلوہ مجردات نہیں ہو سکتا۔)


حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا

(ساقی کو دریائے پر جوش سے تشبیہ دی ہے اور ساحل کو اپنے آغوش سے مطلب یہ ہے کہ تجھے آغوش میں لے کر اور تیرے ہاتھ سے شراب پی کر ہوش کہاں ساحل کی خودداری و پایداری دریائے پرجوش کے آگے کہیں چل سکتی ہے۔)



بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا

برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت
بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا

بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا

اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top