✍️ لب خشک در تشنگی مردگاں کا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
لب خشک در تشنگی مردگاں کا
زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
ہمہ ناامیدی ہمہ بد گمانی
میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
لب خشک در تشنگی مردگاں کا
زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
پہلے مصرع میں ‘سے بھی ہوں’ محذوف ہے اور تشنگی استعارہ ہے، شدتِ آرزو و شوق سے۔
ہمہ ناامیدی ہمہ بد گمانی
میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
پہلا مصرع بالکل فارسی ہے، اس سبب سے کہ ہم اسے مقام پر اُردو میں نہیں بولتے۔
نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
صفحۂ آئنہ جولاں گہ طوطی نہ ہوا
وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوے
مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
🌹 Sharing is Caring 🌹