✍️ قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا

اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا


قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا

​یعنی: رقی و بستگی و تنگی و ضبطِ نفس حیرت کے لوازم میں ہیں اور جب ہر قطرہ مے میں حیرت کے سبب سے یہ صفات پیدا ہوئے تو وہ موتی بن گیا اور پیالہ میں جو لکیر تھی وہ عقدہ مروارید ہو گئی اس بیان سے فقط حیرت کی شگرف کاری کا اظہار مقصود ہے لیکن یہ حیرت حسنِ ساقی کو دیکھ کر پیدا ہوئی ہے، یہ مضمون مصنف کے ذہن میں رہ گیا۔


اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا

​یعنی: میرے عشق کا جو اسے اعتبار ہو گیا ہے تو وہی میری خانہ خرابی کا باعث ہے، اسے روشنی شمع تو برمن بلا شدہی۔



گرمیٔ دولت ہوئی آتش زن نام نکو
خانۂ خاتم میں یاقوت نگیں اختر ہوا

نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا

درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
ریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا

زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماں
دانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا

اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا

اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
تر زبان لفظ عام ساقیٔ کوثر ہوا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top