قربانی کی برف میں لپٹی محبت


جارج سینٹیانا کا قول ہے؛
’’کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں، جِن کے حاشیے میں کِسی قاری کے ہاتھ سے تحریر کردہ خیالات اور تاثرات ان (کتابوں) کو اُن کے اصل مَتن سے زیادہ دِل چسپ بنا دیتے ہیں۔ دُنیا بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔

‘‘معصوم ہیزل (Hazel) کا شمار بھی انہی عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے حُسنِ عَمل کی حاشیہ آرائی سے دُنیا کی کتاب کوحسِیں تر بنا دیتی ہیں۔

15مارچ کی سرد دوپہر کو ولیم مائینر نے لنچ کے بعد محسوس کیا کہ موسم خراب ہونے ولاہے۔ شمال مغرب سے اُفق پر منڈلانے والے سیاہ بادل سورج کو اپنی لپیٹ میں لینے لگے۔ مائینر نے فوراً اپنی بیوی سے کہا،
’’ تُم سامان اندر کرو۔ میں سکُول سے بچوں کو لے کر آتا ہوں۔‘‘

مائینزنے تیزی سے اپنے بہترین گھوڑے کِٹ (Kit) پر سوار ہو کر اڑھائی مِیل دُور سکو ل کی راہ لی۔ بادل سورج کو پُوری طرح مغلوب کر چکا تھا۔ لگتا تھا، سارے منظر کی سانس رُک گئی ہے۔ کئی بچوں کے گھوڑے اور برف گاڑیاں سکول کے صحن میں کھڑی تھیں مگر سکول کے سخت قواعد و ضوابط میں یہ بات شامل تھی کہ طوفانی موسم میں کوئی بچہ اپنے ماں باپ کے بغیر اکیلا گھر نہیں جا سکتا۔

اس کی پندرہ برس کی بیٹی ہیزل مائینر (Hazel Miner) ، گیارہ سالہ بیٹا ایمٹ (Emmet) اور آٹھ سالہ بیٹی مِرڈِتھ (Myrdith) اس کی راہ تک رہے تھے۔ بچوں نے شالیں اوڑھیں۔ ہیزل نے بھائی کے جوتوں کے تسمے باندھے۔ باپ نے دونوں بچوں کو برف گاڑی پر بٹھایا۔ انہیں دو کمبلوں اور ایک اُونی چادر سے ڈھانپا۔ ہیزل ڈرائیونگ سِیٹ پر بیٹھ گئی۔
تیز ہوا کے جھکڑ چلے تو باپ چِلاّیا،
’’ تُم لوگ اِدھر رُکو،اور پھِر میرے پیچھے پیچھے آو۔ میں کِٹ (گھوڑے) کو آگے آگے چلا کر راستہ صاف کروں گا۔‘‘

ماڈ (Maude) (گھوڑی) کا رْخ شمال کی جانب تھا۔ وہ ہمیشہ پُر سکُون انداز میں گھر کا رُخ کرتی تھی مگر اچانگ گھَن گرج سے وہ بوکھلا گئی اور جنوب کی طرف بڑھنے لگی۔ ہیزل نے بھی توازن کھو دیا اور اس گھمبیر صورت حال میں جان نہ پائی کہ ماڈ (گھوڑی) غلط راستے پر چل پڑی ہے۔ وہ اپنے پیچھے سہمے بیٹھے بہن بھائی کو دیکھ کر بولی،
’’ گھبراو نہیں، ہم ڈیڈی کو پیچھے چھوڑ کر اُن سے پہلے گھر پہنچ جائیں گے۔‘‘

گھوڑی کو قابو کرنا مشکل ہو گیا تھا کیوں کہ ہیزل کے ہاتھ سے باگیں چھوٹ گئی تھیں۔ پھر اچانک ماڈ کی رفتار خود بخود مدھم پڑ گئی اور وہ رُک بھی گئی۔ایمٹ بولا،
’’ کیا ہم گھر پہنچ گئے ہیں؟ کیا ہم نے ڈیڈی کو پیچھے چھوڑ دِیا ہے؟‘‘
ہیزل نیچے برف پر اُتری۔ سر چکرا دینے والی دھندلاہٹ میں اسے خود معلوم نہیں تھا ، وہ سب اس وقت کہاں ہیں۔ تمام دُنیا ایک کوڑے برساتا ہوا جھاگ دار سمندر معلوم ہو رہی تھی۔ وہ ہانپتی کانپتی باگیں ہاتھ میں لیے دوبارہ سوار ہوگئی اور بولی،
’’نہیں، ابھی گھر تو نہیں پہنچے، مگر میرا خیال ہے کہ ہم قریب ہی ہیں۔ اب ماڈ بھی پُرسکون ہے اور اُسے راستے کا عِلم بھی ہے۔‘‘
ماڈ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی۔ اور پھِردھند میں آگے بڑھتی ہیزل کی برف گاڑی اچانک ایک پَن گھاٹی سے ٹکرائی اور الٹ
گئی۔ ہیزل نے اسے سیدھا کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام ہوئی۔

انھوں نے برف گاڑی کو عارضی پناہ گاہ بنا لیا اور مدد کا انتظار کرنے لگے۔ اس بے رحم ہوا میں ہیزل کے پاس ایک ہی ترکیب تھی کہ ان دونوں کو اپنے حصار میں لے لے۔ اُس نے ان پر کمبل پھیلا دئیے۔ حتیٰ کہ اپنا اوورکوٹ اُتار کر دونوں بچوں کو ڈھانپ دیا۔ برف مسلسل گِرتی رہی۔ تینوں ساکت پڑے رہے۔ وہ تینوں حواس باختہ ہو رہے تھے۔ ہیزل نے خود پر قابُو پایا اور چِلاّئی،
’’ایمٹ! مِرڈِتھ! آنکھیں بند نہ کرنا۔ ایک دوسرے کو پنچ مارو۔میں سو تک گِنوں گی۔اور ساتھ اپنی ٹانگوں کو بھی اوپر نیچے کرتے رہنا، جیسے کہ تُم دونوں دوڑ رہے ہو۔شروع کرو؛
ایک ، دو ، تین،۔۔۔۔‘‘

وہ اپنے نیچے ننھے اعضا حرکت کرتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔ اُس نے خود بھی اپنے اعضا کو حرکت دینے کی کوشش کی۔ اس کا دماغ ٹانگوں کو پیغام تو پہنچا رہا تھا مگر اسے خبر نہیں تھی، ٹانگیں کیا کر رہی ہیں۔
’’میں تھک گئی ہوں۔ کیا میں سو جاوں؟
مِرڈِتھ نے گھُٹی ہوئی آواز سے کہا۔
’’ نہیں، نہیں۔ ابھی تو میں نے صِرف اکہتر تک گِنا ہے۔‘‘
پھِر ہیزل نے حُکم دِیا،
’’اپنے دستانوں میں ہی ہاتھوں کی انگلیوں کو سو بار کھولو اور بند کرو۔‘‘
ایمٹ نے چادر کے اندر سے اپنا سَر نِکالا اور بولا،
’’ہیزل ، اندر آ جاو۔ ہم جگہ بنا لیں گے۔‘‘
’’نہیں، میں نہیں آ سکتی۔ ہوا بہت تیز چل رہی ہے اور مجھے چادر کو سنبھالنا ہے۔ آو وہی ترانہ پڑھتے ہیں جو ہم ہرروز صبح اسمبلی میں پڑھتے ہیں۔‘‘
تینوں نے ترانہ پڑھا۔
مِرڈِتھ پھِر بولی،
’’چلو، اب خُدا سے دعا کرتے ہیں، وہ ہماری مدد کرے اور مجھے تو اب نیند بھی آ رہی ہے۔‘‘
ہیزل نے بات کاٹ دی،
’’ نہیں ، باِلکل نہیں، آو ہم مِل کر کوئی وظیفہ کرتے ہیں۔‘‘

آزمائش کی اس رات ہیزل نے انھیں ایکسرسائیزز، کہانیوں ، گیتوں اور دعاوں کی طرف لگائے رکھا۔ ساتھ ساتھ وہ مِرڈِتھ اور ایمٹ کی ٹانگوں کی طرف پڑے برف کے ٹکڑوں کو ہٹاتی رہی اور بچوں کو بھی ہدایت کرتی رہی،
’’یاد رکھو، آپ لوگوں نے کِسی بھی صورت سونا نہیں۔ اگر میں سو گئی، تو بھی نہیں۔ مْجھ سے وعدہ کرو۔ چاہے کِتنی بھی گہری نیند آئے، آپ دونوں نے ایک دوسرے کو جگائے رکھنا ہے۔ وعدہ کرو۔‘‘
انھوں نے وعدہ کر لِیا۔ مِرڈِتھ نے بار بار سوال کِیا،
’’ ڈیڈی ابھی تک آئے کیوں نہیں؟‘‘

ولیم مائینز کو گھر آ کر معلوم ہوا، بچے ابھی تک نہیں پہنچے تو اس نے فوراً علاقے کے افراد سے مدد کی درخواست کی۔چالیس افراد اپنی زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان بچوں کی کھوج میں نکل پڑے۔ باقی سب بچے گھر پہنچ چکے تھے مگر ان تینوں کا کوئی سراغ نہ مِلا۔ جھکڑوں کی رفتار ساٹھ مِیل فی سیکنڈ ہو گئی۔ درجہ حرارت کم ہوتے ہوتے صِفر ہو گیا۔ تاریکی بڑھ گئی اور تلاش ناممکن ہو گئی۔

اگلے روز، منگل کو، جب بچوں کو غائب ہوئے پچیس گھنٹے گزر چُکے تھے، سکول سے جنوب کی جانب دو مِیل کے فاصلے پر ایک اُلٹی ہوئی برف گاڑی دِکھائی دی۔ اس کے آگے ایک بھوت نما گھوڑا کسی سنتری کی مانند ساکت مگر زِندہ کھڑا تھا۔
ایک لڑکی کا اکڑا ہوا جِسم اوندھے منہ پڑا تھا۔ اُس کے بازو بھائی اور بہن کے اِرد گِرد حائل تھے۔ وہ موت کے وقت بھی ان کو پناہ دینے اور گلے لگانے میں مصروف رہی جیسے وہ زِندگی میں اُن کا خیال رکھتی تھی۔ لوگوں نے اسے پیار سے اٹھایا۔ پھِر آہستہ آہستہ انھوں نے چادر ہٹائی اور بادبانی کپڑے کے ٹکڑے بھی اٹھائے جسے ہیزل نے اپنے جسم کے نیچے دبا رکھا تھا۔ اس کے اندر مِرڈِتھ اور ایمٹ تھے، سہمے ہوئے اور کچھ کچھ جمے ہوئے، مگر زِندہ۔
انھوں نے وعدہ کیا تھا، وہ اس مہلک نیند کی آغوش میں پناہ نہیں لیں گے۔
ہیزل جانتی تھی؛ اگر وہ سو گئے تو پھِر دوبارہ کبھی جاگ نہیں پائیں گے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top