غیر دریافت شدہ براعظم


’دماغ ایک ایسی دنیا ہے جس میں کئی غیر دریافت شدہ براعظم اور نامعلوم علاقوں کی وسعتیں پوشیدہ ہیں۔‘
(سانتیاگو رامون)


اور پھر اس حیرت نے اسے گھیر لیا کہ آخر یہ لاکٹ اتنا طاقت ور کیوں ہے؟
جب وہ پہلی بار پہننے لگی، تب تو ایسا نہیں لگا تھا۔
ایک صبح، جب وہ لاکٹ پہن رہی تھی تو اس کی انگلیوں سے پھسل کر وہ فرش پر جا گِرا۔ فرش پر گرتے ہی، تڑاخ سے کھُل گیا۔
ننھی لڑکی اسے اٹھانے کے لیے نیچے جھکی اور یہ دیکھ کر حیران ہو گئی کہ اس کے اندر کیا ہے۔
لاکٹ کے اندر ایک آئینہ تھا، اور آئینے میں اس کا عکس تھا
ارے واہ، یہ تو میں ہوں۔ اُسے خیال آیا۔
واقعی، یہ تو میں ہی ہوں۔ یعنی لاکٹ میں وہ پوشیدہ جادو؛
میں ہی ہُوں۔
(الزبتھ کوڈا کیلن)



ڈینیئل گولمین کے بقول؛ ’اگر آپ اپنے جذبات سے بے خبر ہیں تو پھر آپ ان کے رحم و کرم پر ہیں۔‘ ایموشنل انٹیلی جینس کی بنیاد خودشناسی پر ہے۔ یہ ایک ایسا مسلسل سفر ہے جو انسان کو بصیرت سے ہمکنار کرتا ہے۔

انسان ہمیشہ معجزات کو اپنے سے باہر تلاش کرتا ہے، جب کہ حقیقی معجزہ اس کی اپنی ذات کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کا ادراک ہے۔ بعض اوقات کوئی شکست یا حادثہ انسان کو اپنے باطن سے روبرو کر دیتا ہے اور وہ اپنی حقیقی ذات کو پہچان لیتا ہے۔

بیشتر اوقات، ہمیں کسی بیرونی جادوئی لاکٹ کی خود فریبی سے نکل کر اپنی ہی ذات کا پتھر خود سے ہٹانا پڑتا ہے۔ اپنے رستے میں حائل اپنے وجود کو سوالوں کی نوکدار برچھیوں پہ رکھ کر تشکیک کی چھینی سے پے در پے وار کر کے اپنی ہستی تک رسائی کے مراحل طے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

برطانوی مصنف ریڈچیسٹر کہتا ہے؛ مایوس افراد اسی لمحے زندگی کی مخالفت چھوڑ دیں گے، اگر آپ ان کے سر پر ریوالور تان لیں۔ یکایک، انہیں زندہ رہنے کی لاکھوں وجوہات دکھائی دینے لگتی ہیں۔ وہ لاکھوں وجوہات خود کو دریافت کرنے کے لیے ہمیشہ ہمارے اندر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہیں۔
اپنے اندر نئے رستوں کی کھوج کے لیے ہمیں بھی اپنے سر پر ایسے ہی ریوالور تاننا پڑسکتا ہے۔

مشہور امریکی مصنف ’ایلکس ہَیلی’ مسلسل چار برس تک بطور مصنف مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرتا رہا اور بالآخر دلبرداشبہ ہو کر اس نے اپنے لافانی ناول ’رُوٹس‘ پر مزید کام کرنا چھوڑ کر اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ اپنے اس ناول پر وہ مسلسل نو برس سے محنت کر رہا تھا مگر خُود کو اس کام کے لیے بھی نااہل سمجھ کر اس نے ایک مال بردار جہاز سے خود کو بحرالکاہل میں غرق آب کرنے کی ٹھان لی۔ وہ جہاز کی پشت پر کھڑے ہوئے حسرت سے آخری بار لہروں کی جانب دیکھ کر خود کو سمندر بُرد کرنے ہی والا تھا کہ اسے اپنے آبا و اجداد کی آوازیں سنائیں دیں؛
جو تم کر رہے تھے اسے مکمل کرو کیونکہ سبھی تم پر امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ہار مت مانو۔ تم کر سکتے ہو۔ ہمیں تُم پر پُورا بھروسہ ہے۔
اس واقعہ کے چند ہفتوں بعد اس نے اپنا ناول’رُوٹس‘ مکمل کر لیا، جو امریکی ادب کا ایک شاہ کار ثابت ہُوا۔

اگر ہمیں اپنے آباو اجداد کی آوازیں نہیں سنائی دے رہیں تو بھی اپنی ذات کی لاحاصلی کے جہاز پر کھڑے ہو کر بے معنویت کے بحرالکاہل میں خود کو غرقاب کرنے کی بجائے،
Fake it, until you make it.
کو سچ مان کر ہمیں خود ہی اپنے آبا و اجداد کے کردار میں ڈھل کر تب تک خود کو صدائیں دے کر اور پھر انھی صداوں پر لبیک کہہ کر دل و جان سے اس مشکل ترین چیلنج کو قبول کر کے ہی خود تک رسائی کی کوئی راہ تلاش کرنی پڑسکتی ہے؛

ہے کوئی؟ جیہڑا اپنے آپ چوں
ادھی رات نوں کلّا لنگھے؟
(اکبر معصومؔ)



اردو کے مایہ ناز شاعر شہزاد نیر کی بے مثل نظم دیکھیے۔

سقراط

پتھر کاٹنے والے کو معلوم نہیں تھا
اپنا آپ ہی سب سے بھاری پتھر ہے
جسم کا پتھر کٹ جائے تو رستہ بہتر کٹ جاتا ہے
ڈھیروں پتھر کاٹ کاٹ کے
وہ روز و شب کاٹ رہا تھا
اُس کو یہ معلوم نہیں تھا اس کا بیٹا
پھٹی ہوئی پوشاک میں چھپ کر
ایسا مرمر کاٹ رہا ہے
جس کے کٹتے ہی زنجیریں کٹ جاتی ہیں
جو کہتا تھا، سارے رستے اپنے اندر سے آتے ہیں
راہیں کھولو، پتھر کاٹو، اپنا آپ تراشو
تم اپنی تعظیم کے رُخ سے دیکھ کے دیکھو
تم اونچے ہو
اور خداؤں والا پربت نیچا ہے

اَن جانے میں مانتے جانے سے اچھا ہے
کچھ مت مانو
بِن جانے سب مانتے ہو تو عقل پہ پتھر پڑ جاتے ہیں
وقت کے گہرے سناٹے سے
تُند سوال کا اک کنکر ٹکرا جائے تو
لاکھ جواب اُبھر آتے ہیں
دیکھتے دیکھتے مٹ جاتے ہیں
ایک سوال نہیں مٹتا ہے

اور پھر اک دن
پتھر آنکھیں دیکھ رہی تھیں سنگ تراش کا بیٹا
اک آتش سیال کی دھار سے
اپنے آپ کو کاٹ رہا تھا
لاکھوں رستے بہہ نکلے تھے

شہزاد نیر
کتاب : گرہ کھلنے تک

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top